افغان سفیرکی بیٹی کی نقل وحرکت اکٹھی کی ہیں،صرف ایک کڑی کاانتظارہے،شیخ رشید

چینی انجینیرز کو اسلام آباد میں سیکیورٹی دی جا رہی ہے

Your browser does not support the video tag.

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی کی نقل و حرکت کی معلومات اکٹھی کی گئی ہیں اور صرف ایک کڑی ملنا باقی ہے۔ جلد تمام تفصیلات سامنے آجائیں گی کہ معاملے میں کون ملوث ہیں۔ 3 ڈرائیورز سے تفتیش کی ہے، ایف آئی آر درج ہوگئی ہے۔

اسلام آباد میں اتوار 18 جولائی کو اہم پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے گزشتہ ہفتے ہونے والے 2 اہم معاملوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 16 جولائی کو اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کیساتھ ہونے والے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کیس  72 گھنٹے میں حل ہو جائے گا۔ ہمیں سیف سٹی کیمراز اور ویڈیوز کے ذریعے معلومات ملی ہیں۔

بھارتی پروپگنڈا

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ افغان سفیر کی بیٹی کے کیس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ وزیراعظم نے واقعہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بھارت نے افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کیس کو بہت اچھالا۔ بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے اپنے میڈیا کو استعمال کرتا ہے۔

افغان سفیر کی بیٹی کے راولپنڈی جاری کی تحقیقات

افغان سفیر کی بیٹی کے کیس پر وزیر داخلہ نے بتایا کہ اب تک کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی گھر سے پیدل نکلی۔ ٹیکسی سے کھڈا مارکیٹ پہنچی۔ جیسے جیسے تحقیقات کر رہے ہیں کڑیاں مل رہی ہیں۔ افغان سفیر کی بیٹی کے کھڈا مارکیٹ سے راولپنڈی جانے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اغوا کاروں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خاتون اسلام آباد کے سیکٹر ایف-6 سے پہلے گھر جاسکتی تھیں لیکن انہون نے ایف-9 جانے کو ترجیح دی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لڑکی ایف 6 سے گھر جاسکتی تھی لیکن ایف 9 جانے کو ترجیح دی۔ امید ہے کہ ایک دو روز میں ملزمان گرفتار ہوجائیں گے۔ واقعہ رپورٹ کل کیا گیا ہے۔ ہمیں کل رات 2 بجے ایف آئی آر کی تحریر دی گئی ہے۔ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 365، 354، 506 اور 34 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں اغوا، تشدد اور دھمکیاں دینے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ہم دفتر خارجہ سے بھی رابطے میں تھے۔ رات 2 بجے ایف آئی آر ہم نے افغان سفیر کے گھر سے لی۔ ہماری فوٹیج میں لڑکی کھڈا مارکیٹ سے راول پنڈی جاتی نظر آرہی ہے، مگر وہ راول پنڈی سے دامن کوہ کیسے آئیں اس کی تحقیقات کر رہے ہیں، جیسے ہی دیگر فوٹیج سامنے آئی گی ہم انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے لے کر آئیں گے۔

چینی انجینیرز اور داسو ڈیم

کوہستان واقعہ سے متعلق شیخ رشید نے بتایا کہ چینی ماہرین کی 15 رکنی ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے، ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں اور دیگر تمام ادارے مشترکا تحقیقات کا حصہ ہیں۔ کل داسو میں کام بند ہونے کی افواہیں پھیلائی گئیں۔ چین کے ساتھ مل کر داسو واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ کل بذریعہ ہیلی کاپٹر 15 لوگ داسو گئے۔

شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ چینی وفد نے سی ایم ایچ راولپنڈی میں زخمیوں کی عیادت بھی کی۔ چینی وفد کو واقعہ کی تحقیقات اور زخمیوں کی دیکھ بھال پر بریفنگ دی گئی ہے۔ جائے وقوعہ کا دورہ کرنے والی ٹیم میں چینی وزارت خارجہ اور تحقیقاتی ماہرین شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں