افغان سفیر کی بیٹی پر تشدد میں ملوث افراد کو کٹہرے میں لایا جائے گا: دفتر خارجہ

ہفتہ 17 جولائی 2021 16:22

پاکستان نے افغان سفیر کی بیٹی سے پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کی تصدیق کی ہے (فوٹو: وزارت خارجہ پاکستان)

پاکستان کی وزارت خارجہ نے افغان سفیر کی بیٹی پر تشدد کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انہیں اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک کرائے کی گاڑی میں سفر کر رہی تھیں‘۔
سنیچر کی شام پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ’پریشان کن واقعہ رپورٹ ہوتے ہی اسلام آباد پولیس نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے‘۔
’وزارت خارجہ اور متعلقہ ادارے افغان سفیر اور ان کے اہلخانہ سے رابطے میں ہیں اور معاملے پر ان سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق افغان سفیر اور ان کے اہل خانہ کی سکیورٹی میں مزید اضافے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کے ذمہ داروں کی شناخت اور انہیں کٹہرے میں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔
بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ سفاری مشنز کی حفاظت اور سفارتکاروں و اہلخانہ کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ ایسے واقعات کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
دریں اثنا افغانستان کی وزارت خارجہ نے کابل میں پاکستانی سفیر منصور احمد خان کو طلب کر کے اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا پر احتجاج ریکارڈ کیا اور انہیں کہا گیا کہ افغان وزارت خارجہ کا احتجاج پاکستانی وزارت خارجہ اور ریاست کو پہنچایا جائے۔
قبل ازیں افغانستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں پاکستان میں تعینات افغان سفیر کی بیٹی کے ’اغوا اور تشدد‘ کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان میں مقیم افغان سفارتی عملے، ان کے اہلخانہ اور دیگر کی سکیورٹی سے متعلق تشویش کا اظہار کیا تھا۔
سنیچر کو جاری کردہ بیان میں افغان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل کو جمعہ 16 جولائی کو اس وقت اغوا کر کے کئی گھنٹوں تک محبوس رکھا گیا جب وہ گھر کے راستے میں تھیں۔
افغان وزارت خٓرجہ کے مطابق ’نامعلوم افراد‘ کے ہاتھوں اغوا کی گئی سلسلہ علی خیل اس وقت طبی نگہداشت کے لیے ہسپتال میں داخل ہیں۔

افغان وزارت خارجہ کی جانب سے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر جاری کردہ بیان کے مطابق ’عالمی معاہدوں کے تحت پاکستان سے افغان سفارت خانے، قونصلیٹس اور سفارتکاروں واہلخانہ کے سفارتی استثنی سے متعلق فوری ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔‘
بیان میں پاکستانی حکام سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ ذمہ داران کو جلد از جلد شناخت کر کے ان کے خلاف کارروائی کرے۔