افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج ’کیس 72 گھنٹے میں حل ہو جائے گا‘

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان کے سفیر کی بیٹی کے اغوا اور تشدد کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کر لیا گیا ہے۔ کڑیوں سے کڑیاں ملا رہے ہیں، جلد یہ گُتھی سلجھ جائے گی۔
اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید نے بتایا کہ ’فوٹیج کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی گھر سے پیدل نکلیں اور ٹیکسی میں بیٹھ کر کھڈا مارکیٹ گئیں جہاں سے وہ راولپنڈی کی طرف گئیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ واقعہ 16 جولائی کو پیش آیا، خاتون ایف سکس جا سکتی تھیں لیکن انہوں نے ایف نائن جانے کو اہمیت دی۔
مزید پڑھیں
وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ دامن کوہ میں تیسری ٹیکسی کے ڈرائیور سے پوچھ گچھ بھی کی گئی ہے۔
مقدمے کے اندراج کے حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ افغان سفارت خانے نے تعاون کرتے ہوئے ضروری کاغذات مہیا کیے اور اس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس کیس کو جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت کی ہے، تحقیقات جاری ہیں ، 72 گھنٹے میں کیس حل ہو جائے گا۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ انڈیا اس معاملے میں دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، انڈین سوشل میڈیا پر پرانی تصاویر کو اچھالا جا رہا ہے۔‘

شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان میں مقیم کسی بھی چینی شہری کو سکیورٹی کی ضرورت ہو تو درخواست دیے جانے پر سکیورٹی فراہم کی جائے گی (فوٹو: اے ایف پی)

’پاکستانی اور چینی ارکان کی ٹیم داسو واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے‘

داسو واقعے کے حوالے سے وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس کی مشترکہ تحقیقات چل رہی ہیں اور سنیچر کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ٹیم داسو گئی تھی، جس میں پاکستان اور چین کے 15،15 ارکان شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چینی وفد نے پاکستان کے کردار کو سراہا اور کہا ہے کہ ’ہمارا اور آپ کا بیانیہ ایک ہونا چاہیے۔‘
شیخ رشید کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں مقیم کسی بھی چینی شہری کو سکیورٹی کی ضرورت ہو تو درخواست دیے جانے پر سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
افغانستان کے بارے میں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ’پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے دے گا اور افغانستان سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔‘