’افغان طالبان کا قبضہ ہوا تو پاکستان فوجی کارروائی نہیں کرے گا‘

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر افغانستان پر افغان طالبان نے قبضہ کیا تو پاکستان ان کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے رواں سال 11 ستمبر تک افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی روشنی میں پاکستان کے آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو ویڈیو کال پر انٹرویو دیا تھا جو کہ آج جمعے کو شائع ہوئی۔
مزید پڑھیں
عمران خان کا اس سوال پر کہ اگر طالبان طاقت کے زور پر افغانستان پر قبضہ کر لیتے ہیں تو پاکستان کیا کرے گا، کہنا تھا کہ ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ہم طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کے علاوہ سب کچھ کریں گے۔‘
’میرا مطلب ہے کہ ہم اس حد تک سب کچھ کریں گے۔ ہمارے معاشرے کے تمام طبقات نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کوئی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔‘
عمران خان کا افغان بارڈر کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’ہم اس پر باڑ لگا رہے ہیں اور 90 فیصد بارڈر پر ہم باڑ لگا چکے ہیں۔‘
’اگر طالبان فوجی طاقت کے ذریعے افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں تو کیا ہوگا؟ تب ہم بارڈر کو سیل کر دیں گے کیونکہ اب ہم کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے بارڈر پر باڑ لگا دی ہے، جو پہلے کھلا تھا، کیونکہ پہلی بات کہ پاکستان کسی تنازع میں نہیں پڑنا چاہتا، دوسرا یہ کہ ہم مہاجرین کی آمد نہیں چاہتے ہیں۔‘

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر طالبان نے افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو بارڈر کو سیل کر دیں گے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اس سوال پر کہ کیا پاکستان طالبان کے افغانستان پر مکمل فوجی قبضے کی صورت میں اسے تسلیم کرے گا، عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان صرف ایک ایسی حکومت کو تسلیم کرے گا جس کا انتخاب افغانستان کے لوگوں نے کیا ہو، وہ جو بھی حکومت منتخب کریں۔‘
وزیراعظم عمران خان کا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’امریکی انخلا کے بعد ان کی خواہش ہے کہ پاکستان اور امریکہ اپنے ماضی کے ’عدم مساوات‘ پر مبنی تعلق کو ٹھیک کریں۔
’ہم مستقبل میں جو چاہتے ہیں وہ اعتماد اور مشترکہ مقاصد پر مبنی ایک رشتہ ہے۔ یہی حقیقت میں ہمارے ابھی امریکہ کے ساتھ (رشتہ) ہے۔‘