افغان مہاجرین کو اپنے ملک واپس جانا چاہئے، لیاقت شاہوانی

ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صورتحال بہتر ہورہی ہے، افغان مہاجرین پاکستانی مفادات کا خیال نہیں رکھتے اس لئے ان کو باعزت اپنے ملک واپس چلے جانا چاہئے۔

سماء کے پروگرام 7 سے 8 میں گفتگو کرتے ہوئے لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں ایرانی نصاب پڑھانے پر سیل کئے گئے اسکولوں کے اساتذہ کا تعلق افغانستان سے ہے۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں کے مدد کے بغیر یہ ادارے نہیں چل سکتے، اس میں کون ملوث ہے اور فنڈنگ کون کرتا تھا، اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ادارے 30 سال سے چل رہے تھے اور اب تک ان اسکولوں سے 70 ہزار طلباء فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ یہ کل 8 اسکولز ہیں، جن میں سے 6 ہزارہ ٹاؤن اور دو مری آباد میں واقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں پڑھایا جانے والا نصاب ایرانی ہے جبکہ پڑھانے والوں کا تعلق افغانستان سے ہیں۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ جب یہ معاملہ ہمارے نوٹس میں آیا تو محکمہ تعلیم نے تصدیق کی کہ یہ ادارے ہمارے پاس رجسٹرڈ نہیں ہیں، جس کے بعد ہم نے کارروائی کی۔

انہوں نے کہا کہ ایک اسکول اور بھی ہے جو ایرانی قونصلیٹ کوئٹہ میں قائم ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس اسکول میں نصاب نہیں پڑھایا جارہا بلکہ صرف خطاطی اور فارسی زبان سکھائی جارہی ہے۔

لیاقت شاہوانی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں پڑھانے والے اس نصاب میں پاکستان کا کوئی ذکر نہیں، صرف اتنا لکھا گیا ہے کہ پاکستان ایران کا پڑوسی ملک ہے۔

ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا تھا کہ یہ ایرانی سلیبس ہے جو فارسی زبان میں ہے، ہم ابھی معاملے کی تحقیقات کررہے ہیں، اگر کوئی نفرت انگیز مواد ملا تو اس پر بھی کارروائی کی جائے گی۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ ہم نے 30 سال بعد ان لوگوں کو پکڑا ہے، پڑھنے والوں کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے ہے، اسکولوں کی فنڈنگ اور فارغ التحصیل طلباء ابھی کیا کررہے ہیں اس حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہے۔

متعلقہ خبریں