اقوام متحدہ بیلا روس میں طیارے کی ’زبردستی‘ لینڈنگ کی تحقیقات کرے گا

اقوام متحدہ کی ہوا بازی کی ایجنسی نے بیلاروس کی جانب سے رایان ایئر کے طیارے کی سمت تبدیل کیے جانے اور اس میں سوار صحافی کی گرفتاری کے معاملے کی تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جی سیون میں شامل عالمی طاقتوں نے صحافی رومان پروٹا سیوچ کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے اور یورپی فارن پالیسی کے چیف نے سخت پابندیاں عائد کیے جانے کی دھمکی بھی دی ہے۔
مونٹریال میں قائم انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کونسل کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’واقعے کی تحقیقات کرنے اور حقائق سامنے لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘
مزید پڑھیں
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اجلاس میں ارکان نے اس امر پر زور دیا کہ پتہ لگایا جائے وہاں کیا ہوا تھا اور آیا کہ آئی سی اے او کے رکن کی جانب سے بین الاقوامی ہوابازی کے قانون کی خلاف ورزی ہوئی۔‘
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو، جو ماسکو کی جانب سے بھرپور حمایت رکھتے ہیں، نے اتوار کے روز رایان ایئر کے جہاز کی سمت تبدیل کر کے عالمی سطح پر شدید غصے کی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس میں 26 سالہ پروٹا سیوچ اپنی دوست 23 سال صوفیہ سیپیگا کے ساتھ سوار تھے، جو ایتھنز سے ویلییوس جا رہا تھا۔
بیلاروس کے حکام کی جانب سے پیر کو جاری کی جانے والی ویڈیو میں پوسٹا سیوچ کو آخری بار دیکھا گیا جس میں وہ پریشان نظر آ رہے ہیں، اور وہ بظاہر تسلیم کر رہے ہیں کہ انہوں نے بڑے پیمانے پر بدامنی پھیلانے میں مدد دی۔ یہ الزام ان کو 15 سال تک جیل میں رکھ سکتا ہے۔

بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کو ماسکو کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل ہے (فوٹو: روئٹرز)
ان کی والدہ نتالیہ نے مارسا میں صحافیوں کو بتایا کہ ’میں چاہتی ہوں کہ آپ ہماری اپیل  پوری دنیا تک پہنچائیں، حکومتی نمائندوں، یورپی ممالک، یورپی قیادت، امریکی قیادت تک، میں اپیل کرتی ہوں کہ میرے بیٹے کی رہائی میں مدد کریں۔‘
رومن کے والد ڈمرٹی نے جمعرات کے روز بتایا کہ ان کے بیٹے مضبوط آدمی اور ہیرو ہے۔
ان کے مطابق ’بیٹے نے ساری زندگی سچ کے لیے لڑائی لڑی اور اسے آگے لوگوں تک بھی پہنچایا، اسی وجہ سے لوکاشینکو نے یہ مذموم عمل کیا۔‘
جی سیون گروپ کے سات مالدار ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں جمعرات کے روز پروٹا سیوچ کی ’فوری اور غیر مشروط رہائی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی طرح بیلاروس میں قید دیگر صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کی رہائی بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔