الزام تراشیوں کے بجائے افغان قیادت اپنے مسائل حل کرے،شاہ محمود

Shah Mehmood

فائل فوٹو

پاکستانی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغان قیادت مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کرے، ورنہ الزام تراشیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

اسلام آباد میں 15 جون کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پبلک ڈپلومیسی سے متعلق اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں افغان امن عمل، علاقائی صورت حال اور ملکی سیاست سے متعلق غور کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب میں وزیر خارجہ شاہ محمود کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا، اپنی کوتاہيوں سے نگاہ چرائيں گے تو حل نہيں نکلے گا، پاکستان اپنی سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا، ہمارا مشترکہ عزم، اس خطے کا امن و استحکام ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کو امن خراب کرنے کی بجائے، خطے کے امن کیلئے کام کرنا چاہئیے، بھارت ميں آج کھچاؤ واضح دکھائی دے رہا ہے، انڈیا میں اقلیتیں دباؤ میں ہیں، خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں، بھارت اس وقت سیکیولر اور ہندوتوا سوچ میں بٹ چکا ہے، انڈیا ميں بہت بڑا طبقہ مودی سرکار کی حکمت عملی مسترد کر چکا ہے، بھارت میں میڈیا کو دباؤ میں لایا جا رہا ہے، آزاد رپورٹنگ کرنے والوں پر حملے ہوتے ہیں۔

وزيرخارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزيشن کو بجٹ پر تنقيد کرنے کا حق ہے، مہذب طريقے سے اظہار رائے کرے، اپوزيشن اراکین لوگوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کرتے ہيں، اپوزيشن کے اراکین اسمبلی، موبائل کيمروں سے ويڈيوز بنا رہے تھے، تمام اراکین کو بجٹ پر بات کرنے کا حق ہے، جوتنقيد کرنی ہے ضرور کريں، اپنی بات کريں اور حکومتی مؤقف نہ سنيں، يہ مناسب نہيں۔

انہوں نے کہا کہ یک طرفہ ٹریفک نہیں چلے گی، اگر اپوزيشن ہماری نہيں سنے گی تو ہم بھی ان کی نہيں سنيں گے، اگر عمران خان کو بطور قائد ايوان بولنے کا حق نہيں ديا جائيگا تو پھر اپوزیشن لیڈر کو بھی یہ حق نہیں مل سکتا۔

متعلقہ خبریں