الطاف حسین تقریباً ایک ماہ بعد اسپتال سے ڈسچارج

بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو تقریباً ایک ماہ بعد لندن کے اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔ وہ کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد اسپتال میں داخل ہوئے تھے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ الطاف حسین کو 13 جنوری کو وائرل انفیکشن کے بعد طبیعت بگڑنے پر اسپتال لے جایا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے ایم کیو ایم لندن کے ترجمان قاسم علی رضا نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں الطاف حسین کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی تھی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹروں نے الطاف حسین کو مکمل بیڈ ریسٹ تجویز کیا ہے۔

مزید جانیے: الطاف حسین کرونا کا شکار، آئی سی یو میں داخل

الطاف حسین طویل عرصہ سندھ کے شہری علاقوں کی ایک طاقتور شخصیت رہے ہیں، تاہم انہیں 22 اگست 2016ء کو نفرت انگیز تقریر پر سیاست سے الگ کردیا گیا تھا۔ ان پر پاکستان مخالف نعرے لگانے اور کارکنوں کو میڈیا دفاتر پر حملے کیلئے اکسانے کا الزام تھا۔

پاکستان میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے خود کو پارٹی قائد سے لاتعلق کرلیا تھا، جس کے بعد جماعت دو حصوں پاکستان اور لندن میں تقسیم ہوگئی تھی۔ نئی جماعت کا نام ایم کیو ایم پاکستان رکھا گیا۔

الطاف حسین کو 11 جون 2019ء کو لندن میں ان کے گھر پر چھاپے کے دوران 2016ء کی اشتعال انگیز تقریر کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: الطاف حسین کے ترانے بجنے پر متحدہ کا دفتر سیل

نومبر 2020ء میں پاکستان فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ایم کیو ایم بانی کا نام 1210 افراد پر مشتمل انتہائی مطلوب افراد اور ہائی پروفائل دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا تھا۔ یہ پیشرفت اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے چند ماہ قبل ان ریمارکس کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا حکم دیا تھا۔

دیگر دو ملزمان خالد شمیم اور معظم علی کو 16 ستمبر 2010ء کے واقعے میں ملوث ہونے کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔ الطاف حسین خود پر لگے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں