القاعدہ کا امریکہ کے خلاف ’تمام محاذوں پر جنگ‘ جاری رکھنے کا اعلان

القاعدہ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف تمام محاذوں پر جنگ جاری رکھے گی جب تک وہ پوری مسلم دنیا سے واپس نہیں چلا جاتا۔
امریکی نیوز چینل سی این این کو تنظیم سے منسلک دو افراد نے بتایا ہے کہ ’امریکہ کے نکلنے کے بعد وہ پھر سے افغانستان جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔‘ بقول ان کے ’امریکی شکست کھا چکے ہیں۔‘
خیال رہے کہ دس برس قبل دو مئی کو امریکہ نے ایک آپریشن میں تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔
ایمن الظواہری کی قیادت میں کام کرنے والا دہشت گروپ حالیہ برسوں میں داعش کی کارروائیوں اور اس کے میڈیا میں زیادہ نمایاں ہونے پر پس منظر میں چلا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجوں کی موجودگی کو دہشت گرد گروپوں بشمول القاعدہ، داعش اور حزب اللہ نے اپنے مقاصد کے جواز کے طور پر پیش کیا ہے۔
اپریل کے آغاز میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ افغانستان سے افواج نکالنے کا اعلان کریں گے جو امریکہ کی ایک طویل جنگ کا اختتام ہو سکتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اسامہ ہلاک ہو گئے اور افغانستان میں القاعدہ بے توقیر ہوئی، وقت آ گیا ہے کہ جنگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔‘

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپریل کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ افغتانستان سے فوجوں کے انخلا کا اعلان کریں گے (فوٹو: اے ایف پی)
فوجوں کے انخلا کے ضمن میں طالبان اور امریکہ نے اس امر پر اتفاق کیا تھا کہ وہ القاعدہ کے ساتھ تعلق ختم کر دیں گے۔
اگرچہ 2 مئی 2011 کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد تنظیم کی عملی موجودگی میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم الظواہری عالمی جہاد ازم میں اپنے کردار کو متنوع کرتے دیکھے گئے ہیں۔

دو مئی 2011 کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اب القاعدہ کی قیادت ایمن الظواہری کے پاس ہے (فوٹو: اے ایف پی)
کاؤنٹر ایکسٹریمزم پراجیکٹ (سی ای پی) تھنک ٹینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الظواہری کی قیادت میں القاعدہ مرکزیت سے دور ہوئی ہے اور اب اختیار بنیادی طور پر اس سے وابستہ دیگر لیڈرز کے ہاتھ میں ہے۔‘
  امریکہ نے الظواہری کے سر پر 25 ملین ڈالر کا انعام رکھا ہے جو اُن کو مطلوب ترین دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔