الہٰ دین پارک کی لیز،وزیراعلی کے الزامات پرمتحدہ کا جواب

Aladin & Pavilion End Club Protest 1200 Khi 15-06ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ الہٰ دین پارک سے متعلق لگایا گیا الزام بے بنیاد ہے۔ جس دور میں الہٰ دین پارک کی الاٹمنٹ ہوئی شہر میں ایڈمنسٹریٹر فہیم الزماں تعینات تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے عائد الزامات کے جواب میں ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے جو الزام ایم کیو ایم پر لگایا ہے، وہ حقائق کے منافی ہے۔ جس دور میں الہ دین پارک کی الاٹمنٹ ہوئی شہر میں ایڈمنسٹریٹر فہیم الزماں تعینات تھے۔ الہ دین پارک کی الاٹمنٹ کیلئے 1995 میں اشتہارات شائع ہوئے۔

ایم کیو ایم کے مطابق الہ دین کی الاٹمنٹ کے وقت سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ الہ دین کی الاٹمنٹ جس دور میں ہوئی مراد علی شاہ کے والد وزیر اعلیٰ تھے۔ وزیراعلیٰ بیان دینے سے پہلے اپنے بڑوں سے مشورہ کرلیا کریں۔ پیپلز پارٹی کے سارے وزیروں کو ایم کیو ایم فوبیا ہوگیا ہے۔ سارا ملک جانتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ہر دور حکومت میں کرپشن پروان چڑھتی ہے۔

متحدہ رہنماؤں کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے وزیروں کا بال بال کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے۔ اگر الہ دین پارک کی الاٹمنٹ میں کرپشن ہوئی ہے تو پیپلز پارٹی جواب دے۔ تحقیقات کروائی جائیں الہ دین پارک کی الاٹمنٹ میں پیپلز پارٹی کا کون سا وزیر ملوث تھا۔

واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات ہونے اور ان کے برسوں برقرار رہنے میں سندھ حکومت کو بری الذمہ قرار دیا تھا۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کہ نسلا ٹاور کی منظوری سندھ حکومت نے نہیں، کے ایم سی نے دی تھی۔ الہ دین پارک میں تعمیرات کی اجازت بھی کے ایم سی نے کسی اور دور میں دی تھی۔

متعلقہ خبریں