الیکشن ایکٹ ترمیمی بل آئین سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

ECP

فائل فوٹو

الیکشن کمیشن نے انتخابی اصلاحات کے لیے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کو آئین سے متصادم قرار دے دیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ قائمہ کمیٹی میں الیکشن کمیشن کا مؤقف زیر بحث ہی نہیں لایا گیا جبکہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کی ترمیم سپریم کورٹ کی رائے کیخلاف ہے۔

اعلامیہ میں کہا کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری الیکشن کمیشن کا آئینی فرض ہے اور کمیشن کے اختیارات کو کم یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔

حلقہ بندیاں آبادی کے بجائے ووٹرز کی بنیاد پر کرنا آئین کے خلاف بھی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئین کے تحت قومی اسمبلی میں نشستیں آبادی کی بنیاد پر مختص ہوتی ہیں۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ نے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم میں خامیوں کی نشاندہی کی او آڈٹ کمپنی کی جانب سے یہ نظام استعمال نہ کرنے کی سفارش کی گئی۔

الیکشن کمیشن نے دو بین الاقوامی کمپنیوں کی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی مشین کا جائزہ جولائی کے آخر میں لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے الیکشن ایکٹ 2017 کی درجنوں شقوں میں ترمیم سے متعلق بل کی منظوری دی تھی۔

ترمیمی ایکٹ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کے لیے نامزدگی فیس، حد بندی، انتخابی فہرستوں، سینیٹ انتخابات کے لیے اوپن رائے شماری، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حق رائے دہی اور انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال سے متعلق ہیں۔

متعلقہ خبریں