’الیکشن کمیشن انتخابی اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرے‘

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے چیف الیکشن کمشنر کو لکھے گئے خط میں انتخابی اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہباز شریف نے گزشتہ روز چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو خط لکھا تھا جس میں انتخابی اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ ’آئندہ عام انتخابات کے آزادانہ، غیر جانبدارانہ، شفاف اور کسی مداخلت کے بغیر انعقاد کے لیے اصلاحات ضروری ہیں۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرے. 
’میں آپ پر زور دیتا ہوں کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو مشاورت کے لیے بلائیں تاکہ اتفاق رائے پر مبنی پلان بن سکے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس متفقہ پلان کو پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ مستقبل میں آزادانہ، غیرجانبدارانہ اور شفاف انتخابات منعقد ہو سکیں جو عوام کی حقیقی رائے کے مظہر ہوں۔
شہباز شرییف نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کی شکایات کے بعد انتخابی اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ 
’موجودہ حکومت اپنا انتخابی اصلاحاتی ایجنڈا یک طرفہ اقدامات سے مسلط کر کے آئندہ انتخابات کو متنازعہ بنا رہی ہے۔ حکومت کی انتخابی اصلاحات آئین سے متصادم ہیں، حکومت نے متعلقہ فریقین سے کوئی مشاورت نہیں کی۔‘

شہباز شریف کے مطابق آئندہ عام انتخابات کی شفافیت کے لیے اصلاحات ضروری ہیں۔ فوٹو اے ایف پی
خط کے متن کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ قومی اسمبلی میں حالیہ الیکشن بلز کو بلڈوز کر کے منظور کرنے پر الیکشن کمیشن نے خود بھی سنگین تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’بامعنی انتخابی اصلاحات میں اداروں کو اپنی رائے دینے کے علاوہ ذمہ داری لینا ہوگی تاکہ آزادنہ، شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے۔ الیکشن کمشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرے۔‘