الیکشن کمیشن سےسینیٹ انتخابات میں کرپشن روکنے کی اسکیم طلب

Senate

فائل فوٹو

سینیٹ انتحابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پرچیف جسٹس اعجاز الاحسن نے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو کل طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ میں پیر کو سینیٹ انتحابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ چیف الیکشن کمشنر سے پوچھیں گےکہ انہوں نے کیا اقدامات کیے؟ انتحابی عمل سے کرپشن کے خاتمے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے۔

جسٹس اعجازالحسن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ہر لحاظ سے با اختیار ہے۔ شفاف الیکشن یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بتایا کہ مختلف سیاسی جماعتوں،پاکستان بارنے بھی اپنا موقف جمع کرایا ہے۔سندھ ہائی کورٹ بار نے ریفرنس کو بدنیتی قرار دیا تھا۔عدالت سے رائے لینا بدنیتی کیسے ہو سکتا ہے۔پاکستان اورسندھ بارکونسلزسیاسی جماعتوں کیساتھ مل گئی ہیں۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا تھا کہ اوپن بیلٹ میں بھی ووٹ خفیہ طور پر ہی ڈالا جائے گا۔جسٹس اعجازالحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتحابی عمل سےکرپشن کےخاتمےکیلئےکچھ بھی کرسکتاہے۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ عمومی تاثرہےکہ سینیٹ انتخابات میں کرپشن ہوتی ہے،الیکشن کمیشن نےانتخابی عمل سےکرپشن ختم کرنےکی کوئی اسکیم نہیں بنائی۔

سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات میں کرپشن روکنے کی اسکیم طلب کر لی۔

متعلقہ خبریں