امریکہ کو افغان شہریوں پر طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں پر ’سخت تشویش‘

امریکہ نے کہا ہے ’افغانستان میں شہریوں پر طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں پر ’سخت تشویش‘ ہے
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے انڈیا کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ ’افغانستان میں امن کا واحد راستہ مذاکرات ہے جسے تمام فریقین کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے شہریوں پر حملوں کی رپورٹس کو ’بہت زیادہ تشویشناک‘ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’اگر افغانستان اپنے ہی لوگوں کے خلاف مظالم جاری رکھتا ہے تو وہ تنہا رہ جائے گا۔‘
’تنازعے کو پرامن طور پر حل کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے، اور وہ مذاکرات کی میز ہے۔‘
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں طالبان جنگجوؤں نے افغانستان میں متعدد اضلاع اور اہم سرحدی راہداریوں پر قبضہ کرلیا ہے۔
تقریباً دو دہائیوں کے بعد واشنگٹن افغانستان سے اپنی فوج نکال رہا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے اندازے کے مطابق ’افغانستان کے نصف سے زیادہ ضلعی مراکز جنگجوؤں کے کنٹرول میں ہیں۔‘
اضلاع پر کنٹرول اور تشدد میں اضافے سے اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ طالبان جنگجو اقتدار میں واپس آسکتے ہیں۔

دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان حالیہ مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)
طالبان کا کہنا ہے کہ ’اگر وہ اقتدار میں واپس آتے ہیں تو وہ شہریوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے اور اپنے ملک کو بین الاقوامی دہشت گردی کے اڈے کو طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
اقوام متحدہ نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ’حالیہ ہفتوں میں شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘
حکومت کے زیرانتظام علاقوں میں مقیم شہری ان مقامی میڈیا رپورٹس کی وجہ سے خوف میں مبتلا ہیں جن میں طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں شہریوں کے اغوا اور قتل کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
دوسری جانب طالبان نے انتقامی کارروائیوں کی تردید کی ہے۔
امریکی جرنیلوں کی جانب سے افغانستان میں خانہ جنگی کے بارے میں تنبیہہ کے باوجود صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے فوج کے انخلا کا حکم دیا تھا۔
رواں برس مئی کے آغاز سے افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا شروع ہوا ہے۔