’امریکہ کو کسی صورت اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے‘

ہفتہ 19 جون 2021 7:10

امریکی صدر جو بائیڈن نے 11 ستمبر تک افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کا اعلان کیا ہوا ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد پاکستان سی آئی اے کو سرحد پار انسداد دہشت گردی کے مشنز کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی ’بالکل‘ اجازت نہیں دے گا۔
ایک امریکی چینل کو انٹرویو میں جب میزبان نے وزیراعظم عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ امریکی حکومت کو اجازت دیں گے کہ سی آئی اے یہاں پاکستان سے سرحد پار القاعدہ، داعش اور طالبان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مشنز  سر انجام دے سکے؟
مزید پڑھیں
اس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’بالکل نہیں، اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہم اجازت دیں گے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی طرح کے اڈوں یا پاکستانی سرزمین سے افغانستان میں کسی بھی طرح کی کارروائی کی بالکل اجازت نہیں دیں گے۔‘
امریکی ٹی وی چینل ایچ بی او کو پاکستان کے وزیراعظم کا دیا گیا یہ انٹرویو اتوار کی شام نشر کیا جائے گا۔
فوجی اڈے امریکہ کی مجبوری کیوں ہیں؟
امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیوز‘ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کو افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے معیار اور انٹیلیجنس صلاحیتوں کے اہم سوال کا سامنا ہے کیونکہ 11 ستمبر تک امریکی افواج مکمل انخلا کے قریب ہوگی۔
بائیڈن انتظامیہ سینٹرل ایشیا سے بھی افغانستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی انٹیلیجنس کے لیے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے لیکن یہ ایک مختلف وجہ سے پیچیدہ ہے وہ ممالک ولادیمیر پوتن کے اثر و رسوخ میں ہیں۔ 

سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنس نے حال ہی میں پاکستان کا غیراعلانیہ دورہ کیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان سے ایک مشکل تعلق کے باوجود امریکہ نے ماضی میں پاکستانی سرزمین سے سینکڑوں ڈرون حملے اور سرحد پار انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کی ہیں۔ لیکن عمران خان جنہوں نے سنہ 2018 میں اقتدار سنبھالا برملا امریکہ کو فوجی اڈے نہ دینے کا کہہ چکے ہیں۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنس کے حال ہی میں پاکستان کے غیراعلانیہ دورے کے دوران جہاں وہ آئی ایس آئی چیف سے ملے تھے، وزیراعظم عمران خان سے ملاقات نہیں کر پائے تھے۔
تاہم امریکی حکام پرامید ہیں کہ وہ پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس کے ساتھ کسی خفیہ معاہدے پر پہنچ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کے بارے میں ’تعمیری بات چیت‘ کی ہے کہ افغانستان کبھی بھی ایک ایسا اڈہ نہیں بن سکے گا جہاں سے دہشت گرد گروہ امریکہ پر حملہ کر سکیں لیکن انہوں نے اس کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔