امریکی قانون سازوں اور صنعتی اداروں کا سفری پابندیاں جلد اٹھانے کا مطالبہ

24 صنعتی اداروں کے ایک اتحاد نے وائٹ ہاؤس سے کورونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے جن کی وجہ سے دنیا کے زیادہ تر افراد امریکہ میں داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ پابندیاں ہٹانے کے حوالے سے مزید غور و خوص  کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں
یو ایس ٹریول ایسوسی ایشن، ایئر لائنز کی نمائندگی کرنے والے، کسینوز، ہوٹلوں، ایئرپورٹس، طیارے بنانے والے اداروں اور دیگر کمپنیوں پر مشتمل گروپ نے امریکی انتظامیہ سے گذشتہ سال 15 جولائی سےعائد پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کے علاوہ کانگریس کے 75 ارکان بھی خاص کر کینیڈا اور برطانیہ سے آنے والے مسافروں پر عائد سفری پابندیوں میں نرمی کے خواہاں ہیں۔
رواں سال جون کے آغاز میں وائٹ ہاؤس نے یورپی یونین، برطانیہ، کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ بتدریج پابندیوں اٹھانے کا جائزہ لینے کے لیے ورکنگ گروپس تشکیل دیے تھے۔ ان کی میٹنگز عام طور پر ہر دو ہفتوں میں ہوتی ہیں۔
پابندیاں اٹھانے کے حوالے سے وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ ان گروپس نے متعدد بار ملاقات کی ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم کسی ملک کے ساتھ دوبارہ سفر کے حوالے سے اگلے کچھ اقدامات کا اعلان کریں، مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔‘

سینٹرز فار ڈیزیس کنٹرول اینڈ پروینشن نے کورونا کی نئی قسم کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)
’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہم سوچ سمجھ کر آگے بڑھیں اور جب یہ کرنا محفوظ ہو تو بین الاقوامی سفر کو مستقل طور پر دوبارہ کھولنے کی پوزیشن میں ہوں۔‘
امریکی کانگریس کے 75 ارکان نے صدر بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاحت کے لیے امریکہ کی کینیڈا کے ساتھ سرحد کو کھول دیں۔
کانگریس اراکین نے اپنے خط میں اعداد و شمار کا حوالہ دینے ہوئے کہا ہے کہ اگر پابندیاں نہیں اٹھائی جاتیں تو ’رواں سال کے آخر تک امریکہ میں 11 لاکھ نوکریاں ختم ہو جائے گی اور 175 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا۔‘
انڈسٹری گروپس نے بھی یورپ کے مسافروں اور دوسروں پر سے فوری طور پر پابندیاں اٹھانے کا کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے والے مسافروں کو کم خطرے والے علاقوں جیسے یورپی یونین سے امریکہ آنے کی اجازت دی جائے۔
تاہم ذرائع کے مطابق سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پروینشن نے امریکی حکومت کی میٹنگز میں کورونا کی نئی قسم کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انڈسٹری اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں امید نہیں ہے کہ انتظامیہ جلد پابندیاں اٹھائیں گی۔