انتخابات غیرسیاسی قوتوں کی مداخلت سے پاک ہونے چاہئیں،خرم دستگیر

مسلم لیگ نون کے رہنماء خرم دستگیر خان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ الیکشن اصلاحات سے زیادہ انتخابی عمل کو غیرسیاسی قوتوں کی مداخلت سے پاک کرنے کی ضروت ہے.

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے اصلاحات کے مقابلے میں نیت صاف کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم قانون میں یہ کیسے لکھ سکتے ہیں کہ حکومت ریٹرننگ افسران کو اغوا نہیں کرے گی۔

این اے 249 ضمنی الکیشن سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہاں ہارنے اور جیتنے والے امیدواروں کے درمیان مارجن بہت کم ہے اس لیے ہم نے دوبارہ گنتی کی درخواست دی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن نتائج جمع کے لیے ہمیں ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔

رہنماء ن لیگ نے کہا کہ پاکستان کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین درست نہیں ہے جرمنی کے سپریم کورٹ نے بھی اسے مسترد کردیا ہے اور بہت سارے ممالک اس کا استعمال ترک کرچکے ہیں کیوں کہ اس مشین کے ہیک  ہونے کا خطرہ بہت رہتا ہے۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے نبیل گبول نے کہا کہ الیکشن اصلاحات کی بات کرکے حکومت اپنی خفت مٹانا چاہتی ہے اور جہاں تک الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا تعلق ہے اسے بآسانی ہیک کیا جاسکتا ہے اور یہ کام آئی ٹی کا ایکسپرٹ کوئی بچہ بھی کرسکتا ہے۔

 نبیل گبول کا کہنا تھا کہ یہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین بھی لوکل بنائی گئی ہے جسے ہیک کرنے کا طریقہ کار بھی لوگوں کو پہلے سے پتہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم الیکشن سے متعلق آرڈیننس قبول نہیں کریں گے یہ قبل از انتخابات دھاندلی ہوگی۔

رہنماء پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ الیکشن اصلاحات کے لیے کمیٹی بننی چاہیے اگر مجوزہ مسودہ  پارلیمنٹ سے پاس ہوجائے تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا ویسے نیت صاف ہو تو موجودہ الیکشن سسٹم کے تحت بھی شفاف الیکشن ممکن ہے۔

نبیل گبول کا کہنا تھا کہ ہم اوورسیز پاکستانیوں کے خلاف نہیں اگر ان کو ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دینا ہے تو ان کو الیکشن لڑنے کا بھی حق دیا جائے۔

وزیرمملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سن 2013ء میں تمام جماعتوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، آصف زرداری نے کہا تھا کہ یہ آر او کا الیکشن ہے اور ہم نے تحقیقات کے لیے 4 ماہ تک دھرنا دیا تھا۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ 2018 الیکشن پر بھی اپوزیشن کے اعتراضات ہیں اگر شکایات ایک جیسی ہوں تو مل کر حل نکالنا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہم  شور ہی مچاتے رہیں گے یا پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کوئی حل بھی نکالیں گے۔

رہنماء تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے سوال ہے کہ جو سمندر پار پاکستانی کروڑوں ڈالر ملک بھیجتے ہیں یہ ان کو ووٹ کا حق دینے کے لیے تیار ہیں بھی یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے پیسے اور تجربے تو ہمیں بہت اچھے لگتے ہیں مگر ان کو ووٹ کا حق دینے کےلیے ہم راضی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے انہیں کسی طریقے سے تو الیکشن میں نمائندگی دینی ہے۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ دنیا میں 20 ممالک الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال کررہے ہیں اور اگر اپوزیشن کو کوئی تحفظات ہیں تو ان کی تجاویزپر غور کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں ٹیکنالوجی کا استعمال بہت ضروری ہے اور ہم یہ معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔

 فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ الیکشن اصلاحات سے بھاگنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے افراد اس دھاندلی زدہ نظام سے مستفید ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں