انتخابی مواد فوج کی تحویل میں دینے کاہمارا مطالبہ غلط تھا،زبیرعمر

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سندھ کے سابق گورنر محمد زبیرعمر کا کہنا ہے کہ بیلٹ پیپرز اور انتخابی مواد کو فوج کے تحویل میں دینے کا مطالبہ ہماری غلطی تھی اور اس حوالے سے بلاول بھٹو کا بیان درست ہے۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے زبیرعمر کا کہنا تھا کہ ہمارا تو مؤقف ہی یہی ہے کہ سیاست اور انتخابی عمل میں فوج کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔

زبیرعمر کا کہنا تھا کہ درخواست ہمارے وکلاء نے تیار کی تھی جس کی ہم توثیق نہیں اور ہمارا اعتراض صرف یہ ہے کہ الیکشن قوانین کے مطابق اگر مارجن کم ہو تو اس پر اعتراض کیا جاسکتا ہے۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ ایک چھوٹا حلقہ جس میں 70 ہزار ووٹ پڑے تھے مگر اس کے نتائج رات کے 4 بجے آئے اس لیے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ اٹھا۔

فردوس عاشق اعوان کے اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ سے تلخ کلامی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ مسائل کو اس طرح حل نہیں کیا جاسکتا کہ سول سرونٹ کو عوام کے سامنے ڈانٹا جائے کیوں کہ سب کے سامنے تحفظات کا اظہار بھی تضحیک کے زمرے میں آتا ہے۔

مصطفیٰ کمال کے حالیہ بیان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ وہی کراچی ہے لیکن یہ شہر اب بدل چکا ہے اور اب ووٹر کا مزاج بھی وہ نہیں رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف ضمنی الیکشن میں سیکنڈ لاسٹ جبکہ ایم کیوایم سب سے آخری نمبر پر آئی ہے۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پیپلزپارٹی قادر مندوخیل کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے حلقے میں ہمیں سمجھنے میں غلطی کی تھی، ہم نے الیکشن شیڈول سے قبل حلقے میں 2 ارب روپے کے ترقیاتی کام کروائے لیکن ہم نے اپنے کام کی تشہیر نہیں کی۔

اپنے جیت سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا نے میرے لیے بہت اچھا گراؤنڈ چھوڑا تھا، وہ حلقےمیں کچرے پر بیٹھ کر کہتے تھے کہ میں سمندر سے سیدھی پانی کا لائن یہاں لاؤں گا۔

رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ جب جیتنے کے بعدجب حلقے کے عوام نے فیصل واوڈا کو اپنے وعدے یاد کرائے تو انہوں نے منرل واٹر دینے کا کہہ کر عوام کی تضحیک کی۔

نتائج پر ن لیگ کے اعتراضات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ جب الیکشن والے دن الیکشن کمیشن آفس گیا تو زبیر عمر اور ن لیگی رہنما پہلے سے وہاں بیٹھ کر نتائج دیکھ رہے تھے اس وقت بھی ان کی باڈی لینگویج سے لگ رہا تھا کہ وہ ہار رہے ہیں۔

قادر مندوخیل کا کہنا تھا کہ شہبازشریف 2018 الیکشن کے بعد کبھی حلقے میں نہیں آئے۔ نتائج میں تاخیر سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ تمام نتائج رات 11 بجے تک آچکے تھے صرف فارم 45 اسکین کرنے میں وقت لگا۔

قادرمندوخیل کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل تانگہ پارٹیاں ہمیں کہتی تھی سندھ حکومت حتم کریں لیکن ایک سیٹ پر حمایت کے لیے بلاول صاحب کے پاس پہنچ گئے اور جب انکار کیا تو شوکاز نوٹس بھیج دیا گیا۔

رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ بھٹو نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا اور محترمہ بےنظیر بھٹو نے ملک کو میزائل ٹیکنالوجی دی آج تو ہمیں فرانس کے برابر ہونا چاہیے تھا لیکن موجودہ حکومت نے معیشت کا بیڑا غرق کیا ہے، حیران ہوں کہ تحریک انصاف کے امدیوار کو اتنے ووٹ کیسے مل گئے۔

رہنما تحریک انصاف ملیکہ بخاری نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصطفیٰ کمال کے وزیراعظم اور تحریک انصاف سے متعلق بیانات قابل مذمت ہیں،انہیں اپنے رویے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

فردوس عاشق اعوان کی اسسٹنٹ کمشنر سے تلخ کلامی والے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ کچھ سول سرونٹ کی کارکردگی درست ہے کچھ کی صحیح نہیں، فردوس عاشق اعوان کے الفاظ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن بہر حال سول سرونٹ حکومت کو جواب دہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ کو فردوس عاشق اعوان کے الفاظ پر اعتراض ہے مگر رانا ثناء اللہ چیف سیکرٹری پنجاب اور ان کے بچوں کو دھمیکاں دیتے رہے ہیں لہٰذا انہیں اس معاملے پر ہمیں لیکچر دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ ہم این اے 249 ضمنی الیکشن کے نتائج سے خوش نہیں مگر عوام کے سامنے ان دو پارٹیوں کا بیانیہ پاش پاش ہوگیا دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگارہی ہیں۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ان دو پارٹیوں کو الیکشن سسٹم پر اعتماد نہیں اس لیے ہم انتخابی نظام میں اصلاحات کی بات کرتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن سسٹم پر بداعتمادی کی فضا حتم ہوجائے۔

متعلقہ خبریں