انسدادِ دہشت گردی عدالت ميں عزیربلوچ کے اقبالی بیان میں اہم انکشافات

سال 2003 میں لیاری گینگ وار میں شمولیت اختیار کی

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت ميں لیاری گینگسٹر عزیربلوچ نےاقبالی بیان میں اہم انکشافات کرديئےہیں۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نےعزیربلوچ کےاقبالی بیان کی نقول اے ٹی سی میں پیش کردی ہیں۔عزیر بلوچ نے بیان دیا ہے کہ سال 2003 میں لیاری گینگ وار میں شمولیت اختیار کی اور سال 2008 ميں جیل میں پیپلزپارٹی رہنما فیصل رضا عابدی اور جیل سپرنٹنڈنٹ نصرت منگن کے کہنے پر پیپلز پارٹی کے قیدیوں کا ذمہ داربنایا گیا۔

عزیربلوچ نے بتایا کہ رحمان ڈکیت کی ہلاکت کے بعد لیاری گینگ وار کی کمان سنبھالی اور پیپلز امن کمیٹی کے نام سے مسلح دہشت گرد گروہ بنایا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ بلوچستان سے اسلحہ منگواتے تھے جس کواغوا برائے تاوان، قتل و غارت گری ،سیاسی جلسوں اور ہڑتالوں کو کامیاب بنانے ميں استعمال کيا جاتا تھا۔

اس کےعلاوہ لیاری میں ذوالفقار مرزا، قادر پٹیل اور سینیٹر یوسف بلوچ سے کہہ کر اپنی مرضی کے پولیس افسران تعينات کرانے کا بھی اعتراف کيا ہے۔

عزير بلوچ نے يہ بھی بتايا کہ پولیس کی مدد سے ارشد پپو، اس کے بھائی اور ساتھی کو اغوا کیا۔ تینوں کے سر تن سے جدا کرکے لیاری کی گلیوں میں فٹ بال کھیلا اور لاشوں کو جلا دیا۔اس واردات کی فوٹيج بنا کر وائرل کی تا کہ دہشت پھيلے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پرعزیربلوچ کے بیان پرمتعلقہ مجسٹریٹ کو طلب کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ عزیر بلوچ کمرہ عدالت میں اس بیان سے منحرف بھی ہوچکا ہے۔

تین ہفتے قبل استغاثہ نے عزیر بلوچ کی بریت چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ استغاثہ نے موقف دیا کہ ان مقدمات میں گواہوں کے بیانات پر توجہ نہیں دی گئی جبکہ عزیربلوچ کو سزا دلوانےکیلئےشواہد موجود ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہےکہ مقدمات بحال کرنے اور گواہوں کو ازسرنو سننے کی استدعا کی جائے گی۔ان میں قتل،اقدام قتل،اغوا، پولیس مقابلہ اور غیر قانونی اسلحہ کےمقدمات شامل ہیں۔

عزیربلوچ کے خلاف بیشتر مقدمات میں 2012 سے 2013 تک ہونے والے جرائم شامل ہیں۔3 ماہ قبل عزیربلوچ کے مسلسل بری ہونے سے متعلق عدالت میں پراسیکیوٹر نے انکشافات کيا تھا کہ عزیر بلوچ کے کیسز سے متعلق گواہان و پراسیکیوشن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ سرکاری وکيل نے کہا کہ گواہان پراسیکیوشن اورعدالتی عملے کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

عزیربلوچ کو رینجرز نے 30 جنوری 2016ء کو حراست میں لیا تھا۔ رینجرز نے اپریل 2017ء میں عزیر بلوچ کو جاسوسی اور غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو معلومات فراہم کرنے کے الزامات پر پاک فوج کے حوالے کردیا تھا، کور 5 نے عزیر بلوچ کو تین سال بعد 6 اپریل 2020ء کو پولیس کے سپرد کر دیا تھا۔

متعلقہ خبریں