انٹرنیٹ سے ذاتی معلومات کیسے ہٹائی جائیں؟

ہماری ڈیوائسز میں زندگی بن کر دوڑنے والا انٹرنیٹ جانتا ہے کہ ہم کہاں رہتے ہیں، کیا کھانا پسند ہے، کون سی فلم اچھی لگتی ہے، حتی کہ ہماری شخصیت اور رویے کو بھی ایسے جانتا ہے جیسے قریبی لوگ بھی شاید نہ جانتے ہوں۔
گیٹ ایپ کے ایک سروے کے مطابق 91 فیصد صارفین کو یقین ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کے اشتہارات ان کی ذات کے متعلق بہت کچھ جانتے ہیں۔
انٹرنیٹ پر ہم جو ویب سائٹس استعمال کرتے ہیں بدقسمتی سے ہم وہاں سے اپنے متعلق سب کچھ ڈیلیٹ نہیں کر سکتے، پھر بھی کئی ایسے کام ہیں جنہیں کر کے اپنی ڈیجیٹل موجودگی کو کم اور خود کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
انٹرنیٹ پر آپ کی ذاتی معلومات کیعدم دستیابی یا کم سے کم معلومات ہیکرز یا دھوکہ دینے والوں کے لیے آپ کے متعلق درست بات جاننے کو مشکل بنا دے گی۔
اگر ایسا نہ ہو اور آپ سے متعلق سبھی معلومات بآسانی دستیاب ہوں تو دوسروں کو دھوکے سے نقصان پہنچانے والے آپ کا نام اور دیگر ذاتی معلومات استعمال کرتے ہوئے آپ کی شناخت چوری کر سکتے ہیں، مشکوک ای میلز بھیج سکتے ہیں، مالیات سے متعلق ڈیٹا یا اثاثہ جات کو متاثر اور آپ کو ہراساں بھی کر سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا سے اپنے متعلق بہت ذیادہ معلومات کو کم کرنے کے طریقے جاننے سے قبل یہ جائزہ لیتے ہیں کہ آپ سے متعلق اتنا کچھ انٹرنیٹ کے پاس کہاں سے آیا ہے۔

سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز

سوشل میڈیا ایپلیکیشنز، فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام وغیرہ اپنے صارفین سے متعلق اہم معلومات کا ہر حصہ محفوظ کرتی ہیں۔ کون کس روز پیدا ہوا، پسند و ناپسند، سوشل میڈیا پر آپ کے رویے سے آپ کی شخصیت کے متعلق اندازہ تک لگایا جاتا ہے۔ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ پر اپنے متعلق زیادہم معلومات نہ دیں۔

ای کامرس ویب سائٹس

یہ بات تقریبا ناممکن ہے کہ ہر ویب سائٹ پر دیا گیا اپنا پاس ورڈ یاد رکھا جائے۔ اس وجہ سے ہم اپنے پاس ورڈز کو براؤزرز کے آٹو فل آپشن کے حوالے کر دیتے ہیں، ان میں آن لائن شاپنگ سے متعلق ویب سائٹس بھی شامل ہوتی ہیں۔

جو ویب سائٹ وزٹ کریں اس پر کوکیز سے متعلق دیے گئے پیغام پر بھی نظر رکھیں۔ (فوٹو: فری پک)
ڈیٹا چوری کرنے والے صارفین کی ذاتی معلومات تک پہنچ کر انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے لازم ہے کہ اپنے یوزرنیم اور پاس ورڈز کو ویب سائٹس پر محفوظ نہ کریں بلکہ یہ کام کسی اور طریقے سے کریں۔

بلاگنگ

ہو سکتا ہے آپ کو پڑھنا پسند ہو اور آپ چاہ کر بھی خود کو اپنے پسندیدہ بلاگز کو سبسکرائب کرنے سے روک نہ پاتے ہوں۔ اس عمل سے بھی آپ کی قیمتی معلومات کو خطرہ درپیش ہوتا ہے۔

آن لائن دوست اور شناسا

ٹیکنالوجی کی موجودہ تیزرفتار دنیا میں آن لائن دوست نہ ہونا تقریبا ناممکن ہے۔ دوسری جانب ہم آن لائن دنیا میں کچھ دوستوں پر اندھا اعتماد بھی شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے موقع پر یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری معلومات کہاں جا رہی ہیں۔

موبائل فون یا ٹیبلٹ میں اضافی ایپس رکھنے کو عادت نہ بنائیں۔ (فوٹو: فری پک)
اگر آپ کسی آن لائن دوست یا جان پہچان والے سے متعلق مشکوک ہوں تو اس کے متعلق پہلے دیگر ذرائع سے تصدیق کر لیں۔
اپنی معلومات ڈیجیٹل دنیا کے حوالے کرنے کے کچھ ذرائع پر گفتگو کرنے کے بعد آئیں دیکھتے ہیں کہ خود کو آن لائن رکھتے ہوئے کیسے زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

کمپیوٹر ڈیٹا دیکھیں

آپ کے براؤزر کی ہسٹری آپ سے متعلق معلومات کا خزانہ رکھتی ہے، اس میں آپ کی وزٹ کردہ ویب سائٹس، پاس ورڈز، آپ کے یوزر نیم وغیرہ اور کیشے کی گئی فائلز بھی موجود ہوتی ہیں۔ ان میں بہت کچھ کو بآسانی حذف کیا جا سکتا ہے۔ براؤزنگ ہسٹری کو کلیئر کریں اور کوکیز کو ڈیلیٹ کر دیں۔ کوئی اچھا اور معیاری سیکیورٹی سافٹ ویئر انسٹال کر لیں اور انٹرنیٹ کو استعمال کرتے ہوئے سیکیورٹی سافٹ ویئر کا استعمال معمول رکھیں۔

اپنی ڈیوائسز میں اینٹی آن لائن ٹریکنگ رکھنے والا کوئی معیاری سافٹ ویئر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ (فوٹو: فری پک)

آن لائن دنیا میں ناقابل رسائی رہیں

آپ نے مختلف ویب سائٹس کو وزٹ کرتے ہوئے ’کوکیز‘ سے متعلق پیغامات دیکھے ہوں گے۔ یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جو آپ کی براؤزنگ کا پیچھا کرتی ہے۔ آپ نہیں چاہتے کہ یہ معلومات دیکھی جائیں تو اینٹی آن لائن ٹریکنگ فیچرز رکھنے والا کوئی معیاری سافٹ ویئر استعمال کریں۔
براؤزر کا ‘ڈو ناٹ ٹریک‘ فیچر استعمال کر کے بھی خود کو براؤزنگ کے دوران ناقابل شناخت رکھا جا سکتا ہے۔ گوگل کروم ہو یا فائرفاکس، ان براؤزرز کے پرائیویٹ سیشنز آپ کو موقع دیتے ہیں کہ آپ ٹریس ہوئے بغیر براؤزنگ کر سکیں۔ اس طریقے سے نہ تو آپ کی براؤزنگ ہسٹری محفوظ ہو گی، نہ سائٹ ڈیٹا اور کوکیز یا فارمز پر چھوڑی گئی دیگر معلومات کہیں سٹور ہو سکیں گے۔

فون سے غیرضروری ایپس ڈیلیٹ کریں

بہت سے فون اور ٹیبلٹ رکھنے والے صارفین کے پاس موجود ایپلیکیشنز ان کی ذاتی معلومات، نام، ای میل، فون نمبر اور لوکیشن کو محفوظ کر لیتی ہیں۔ یہ معلومات کسی طرح چوری ہو کر جعلسازوں یا دھوکہ دینے والوں کے ہاتھ لگ جائیں تو آپ کی فنانشل معلومات بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

قیمتی ذاتی ڈیٹا براؤزر کے بجائے اپنے پاس دیگر ذرائع، مثلا لکھ کر محفوظ رکھیں۔ (فوٹو: فری پک)
اس لیے یہ لازم ہے کہ ایسی غیرضروری ایپس سے اپنی معلومات کو حذف کر دیں۔ اس کے لیے آپ کو پہلے وہاں سے اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنا ہو گا اور پھر ایپلیکیشن کو فون یا ٹیبلٹ سے ڈیلیٹ کرنا ہو گا۔

ڈیجیٹل ماہرین کی معاونت

انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران بنتے رہنے والے اپنے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کے لیے بہتر ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کو اچھی طرح جاننے والے افراد سے رہنمائی لیتے ہیں۔ ذاتی ڈیٹا کو انٹرنیٹ سے دور رکھنے کے لیے معتبر و معیاری آن لائن خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں، لیکن ایسا کرنے کے لیے بھی لازم ہے کہ پہلے اچھی طرح تسلی کر لیں کہ جس ادارے یا فرد سے رابطہ کر رہے ہیں اس کی ساکھ کیا ہے۔
انٹرنیٹ پر آپ سے متعلق ذاتی معلومات جہاں آپ کو نقصان کا شکار کر سکتی ہیں وہیں یہ مستقبل میں آپ کے لیے ملازمتوں اور دیگر مواقع کا باعث بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے کوشش کریں کہ مفید بنیادی معلومات اگر آن لائن ہوں بھی تو ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی مالی معلومات اور پاس ورڈز وغیرہ کو آن لائن ذرائع پر محفوظ نہ کریں بلکہ اپنے پاس لکھ کر الگ سے رکھ لیں۔