انٹرنیٹ سے ’زندگی بدلنے والا‘ کوڈ 59 لاکھ ڈالرز میں فروخت

موجد برنرز لی کا ورلڈ وائڈ ویب (www) کے لیے بنایا گیا سورس کوڈ (این ایف ٹی) 59 لاکھ ڈالرز میں فروخت ہوا ہے۔ یہ وہی کوڈ ہے جس نے تقریباً 30 برس پہلے ہمارے لیے انٹرنیٹ کی دنیا متعارف کروائی اور ہماری زندگی کو بدل دیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس کوڈ کی ہفتہ بھر جاری رہنے والی فروخت کا انتظام نیویارک میں موجود سودیبائی کمپنی نے کیا تھا۔
اس فروخت میں برنرز لی کا 10 ہزار لائنز کا کوڈ اور ان کی طرف سے ایک خط شامل تھا۔
مزید پڑھیں
سودیبائی کمپنی کی نائب صدر کیسندرا ہیٹن کا کہنا تھا کہ ’ہم 10 برس پہلے ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ یہ کام منفرد ہے کیونکہ یہ ورلڈ وائڈ ویب کے لیے اہم ہے۔‘
’اس نے آپ کی زندگی کا ہر پہلو بدل کر رکھ دیا۔ ہمیں پوری طرح ادراک بھی نہیں ہے کہ اس کا ہماری زندگی پر کیا اثر ہوا۔ اور آنے والی زندگی میں اس کے اثرات کیا ہوں گے۔‘
برنرز لی نے 1989 میں معلومات شیئر کرنے کا ایک نظام ایجاد کیا جس سے سائنسدانوں کو دنیا میں کہیں سے بھی ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوئی۔
اس وقت برنرز لی ’سیرن ڈیٹا سنٹر‘ کے لیے کام کرتے تھے۔ انہوں نے اس نیٹ ورک کو ورلڈ وائڈ ویب (www) کا نام دیا۔
1990 اور 1991 میں انہوں نے ایک پروگرام متعارف کروایا جس سے پہلے انٹرنیٹ براؤزر کی ایجاد ہوئی جس کے بعد ہمارے سامنے ویب سائٹ آئی۔

برنرز لی نے اس کا پیٹنٹ نہیں بنایا اور یہی وجہ ہے کہ آج ویب سائٹ تک سب کی رسائی ہے (فوٹو ایڈ کوئن)
انہوں نے اس کے علاوہ انٹرنیٹ ایڈریس یو آر ایل (URL)، ویب سائٹس کو ڈھونڈنے کے لیے ایچ ٹی ٹی پی (HTTP) اور ایچ ٹی ایم ایل (HTML) ایجاد کیا جو ویب سائٹ بنانے کے لیے کوڈ لینگویج ہے۔
برنرز لی نے اس کا پیٹنٹ نہیں بنایا اور یہی وجہ ہے کہ آج ویب سائٹ تک سب کی رسائی ہے۔