انڈونیشیا: مرغیاں، بکریاں لے کر ہزاروں افراد قربانی کے لیے آتش فشاں کے دہانے پر

26 جون ، 2021

انڈونیشیا میں ہزاروں افراد کئی صدیوں پرانی رسم کی ادائیگی کے لیے دہکتے آتش فشاں پر جانوروں اور دیگر اشیا کی قربانی کے لیے پہنچ گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ہر سال ٹینجر قبیلے کے لوگ ’یندیا کاسادا‘ فیسٹیول منانے کے لیے آتش فشاں کے قریب اکٹھے ہوتے ہیں اور پھل، سبزیاں، پھول، بکریاں اور مرغیاں مونٹ برومو کے آتش فشاں میں پھینکتے ہیں۔

لوگ قطار بنائے اور ہاتھوں میں جانور اور دیگر اشیا پکڑ کر پہاڑ کی چوٹی پر جاتے ہیں تاکہ ہندو خداؤں کو خوش کر سکیں اور ان کے معاشرے میں خوشحالی آ سکے۔

پروانتو نامی خاتون نے رنگ برنگی مرغی اوپر اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’آج میں اپنے آباو اجداد کے لیے مرغی لائی ہوں۔‘

وانٹوکو اس امید سے اپنی فصل کو آتش فشاں میں پھینکنے آئے کہ اس سے ان کی قسمت اچھی ہوگی۔

یہ فیسٹیول 15 ویں صدی سے ایک ہندو شہزادی اور اس کے شوہر کی یاد میں منایا جاتا ہے جن کے ہاں شادی کے کئی برسوں کے بعد بھی کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔

  انہوں نے منت مانگی کہ اگر ان کی اولاد ہوئی تو اپنے سب سے چھوٹے بچے کو آتش فشاں میں پھینک دیں گے۔ اس کے بعد ان کے ہاں 25 بچے پیدا ہوئے۔

تاہم موجودہ دور میں اس قبیلے کے لوگ اپنے بچوں کے بجائے دیگر اشیا کی قربانی کرتے ہیں۔

جن لوگوں کا اس قبیلے سے تعلق نہیں ہے وہ ان کی پھینکی گئی اشیا کو دہانے میں گرنے سے پہلے ڈنڈوں کے ساتھ جال لگا کر یا دیگر چیزوں کے ذریعے دبوچنے کی کوشش کرتے ہیں۔