انڈیا: اُدے پور میں درزی کا قتل، ’ماسٹر مائنڈ‘ گرفتار

انڈیا کے شہر اُدے پور میں ہندو درزی کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں مزید دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈین پولیس نے سنیچر کو اُدے پور سے دو مسلمان شہریوں کو گرفتار کیا ہے جو ممکنہ طور پر کنہا لال نامی درزی کے قتل کی منصوبہ بدی میں ملوث ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے انڈین ریاست راجستھان کے شہر اُدے پور میں سوشل میڈیا پوسٹس کے تنازع پر ایک درزی کنہا لال کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں
قتل سے چند روز پہلے کنہا لال نے پیغمبر اسلام کے متعلق نازیبا بیان دینے والی بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن نوپور شرما کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کی تھی۔
اُدے پور کے ایک اعلیٰ پولیس افسر پرافولا کمار کا کہنا ہے کہ ’دو ماسٹر مائنڈز کو گرفتار کیا ہے اور اس سے پہلے جرم میں ملوث دو افراد کو حراست میں لیا تھا۔‘
انہوں نے بتایا کہ شہر میں بند انٹرنیٹ سروس بتدریج بحال کی جا رہی ہے اور سکیورٹی فورس کو تاحال ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کا کہنا ہے کہ کنہا لال کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔
این آئی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق چاروں ملزمان سے منسلک مسلمان شہریوں سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی عسکری نیٹ ورک سے وابستگی کا پتا لگایا جا سکے۔

اُدے پور میں درزی کنہا لال کو مذہبی تنازعے کی بنیاد پر قتل کیا گیا تھا۔ فوٹو: روئٹز
کنہا لال کے قتل کے مقام کے ارد گرد رہنے والے شہری خوف کا شکار ہیں کہ کہیں اُدے پور کی بااثر ہندو کمیونٹی ان کا معاشی بائیکاٹ ہی نہ کر دے۔
طبی شعبے سے وابستہ شہری محمد فرخ کا کہنا ہے کہ جو کچھ بھی ہوا وہ یقیناً وحشیانہ اقدام تھا لیکن دو لوگوں کے عمل کی بنیاد پر پوری کمیونٹی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہیے۔‘
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات انڈین قانون اور اسلامی قواعد کے خلاف ہیں۔
بی جے پی کی سابقہ ترجمان نوپور شرما کے بیان سے ملک بھر میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد انڈین سپریم کورٹ کے ججز نے بھی ان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔