انڈیا: بلدیاتی انتخابات میں ڈیوٹی دینے والے 700 اساتذہ کی کورونا کے باعث ہلاکت

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں بلدیاتی انتخابات کے دوران ڈیوٹی دینے والے 700 سے زائد اساتذہ کی کورونا کے باعث موت واقع ہو چکی ہے۔
اساتذہ یونین کے ترجمان ڈاکٹر آر پی مشرا نے عرب نیوز کو بتایا کہ انتخابی عمل کے دوران 700 سے زیادہ اساتذہ کی ہلاکت ہوئی اور ووٹوں کی گنتی کو موخر نہیں کیا گیا تو اس سے مزید تباہی ہوگی۔
اتر پردیش میں جمعرات کو چار مراحل پر مشتمل بلدیاتی انتخابات کا آخری دن تھا جو اپریل کے پہلے ہفتے میں شروع ہوئے تھے۔ انڈیا میں کورونا کیسز میں بدترین اضافے کے باوجود انتخابی عمل ملتوی نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں
انتخابات میں ڈیوٹی کے دوران جیسے جیسے اموات میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو اتر پردیش کے مڈل سکول اساتذہ کی یونین نے ووٹنگ کی گنتی کا عمل ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا۔
کم از کم 15 ہزار سکول اساتذہ انتخابی عمل کا حصہ تھے جن میں اکثر دیہاتی علاقوں میں تعینات تھے جہاں طبی امداد بھی میسر نہیں تھی۔
اساتذہ یونین کے ترجمان ڈاکٹر آر پی مشرا کے مطابق ان کے تیار کردہ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر اساتذہ تب کورونا کا شکار ہوئے جب انہیں ایک دن کی ٹریننگ کے لیے بلایا گیا، اور دیہاتوں میں طبی امداد کی قلت اور ہسپتالوں میں رش کے باعث ان کی موت واقع ہو گئی۔
36 سالہ استاد ویوک شکلہ 5 اپریل کو ایک روزہ کورس میں شرکت کے لیے گئے تھے جو الیکشن ورکرز کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ گھر واپس آنے کے بعد ان میں کورونا کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں اور گزشتہ ہفتے ان کی موت واقع ہو گئی۔
ویوک شکلہ کے انکل جگ جیون نے عرب نیوز کو بتایا کہ الیکشن کی ٹریننگ والے دن بالکل ٹھیک تھے، وہاں سے واپس آنے کے بعد بیمار ہو گئے، حالات اتنے خراب ہیں کہ لوگوں گروہ کی شکل میں ہلاک ہو رہے ہیں۔ 

اساتذہ کی بڑی تعداد انتخابی عمل کا حصہ تھی۔ فوٹو اے ایف پی
جگ جیون نے کہا کہ ویوک شکلہ کی دو بیٹیاں اور اہلیہ کمانے والے سے محروم سے ہو گئی ہیں، ایسے موقع پر جب وبا ایک مرتبہ پھر پھیلنا شروع ہو رہی تھی تو انتخابات کروانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔
اتر پردیش سے حکومتی جماعت بی جے پی کے رکن پارلیمان امیش دویویدی نے بھی انتخابات کروانے کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ریاست میں انتہائی افسوسناک صورتحال ہے، ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
’ایسے وقت پر انتخابات کروانے کی ضرورت ہی کیا تھی، جب لوگوں کی زندگیاں بچانا انتظامیہ کی ترجیح ہونا چاہیے تھی۔‘
رکن پارلیمان امیش دویویدی نے کہا کہ انتخابات کی وجہ سے نہ صرف وائرس تیزی سے پھیلا ہے بلکہ دیہاتی علاقوں تک بھی پہنچ گیا جو زیادہ حد تک کورونا سے پاک تھے۔
دوسری جانب بی جے پی کے ترجمان راکیش ترپھاٹی کے مطابق انتخابی عمل کے دوران حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ ترجمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’انتخابات ہائی کورٹ کے احکامات پر ہوئے ہیں اور ہم نے کورونا ضوابط پر عمل درآمد کی کوشش کی ہے۔‘
انہوں نے کہا یونین کے احتجاج کے باوجود ووٹوں کی گنتی شیڈول کے مطابق ہی ہوگی۔
’چاہے کچھ بھی ہو، گنتی 2 مئی کو ہی ہوگی۔ ہمیں کورونا کے ساتھ رہنے کی عادت ڈالنا پڑے گی۔ ہمیں وائرس کی موجودگی میں اپنے معمول کی زندگی گزارنا ہوگی۔‘

اکثر اساتذہ انتخابی عمل کے دوران فرائض نبھاتے ہوئے کورونا کا شکار ہوئے۔ فوٹو اے ایف پی
اترپردیش سے سیاسی تجزیہ نگار اور سابق بیوروکریٹ سوریا پرتاپ سنگھ نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں صورتحال قابو سے باہر ہونے کا خطرہ ہے۔
’بلدیاتی انتخاب دہشت بن کر رہ جائے گا اور مجھے لگ رہا ہے انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ہمیں ایک لاکھ انتہائی نگہداشت کے بیڈز لگانا پڑیں گے۔‘
سوریا پرتاپ سنگھ نے مزید کہا کہ حکومت کورونا کی موجودہ لہر کے لیے بالکل تیار نہیں تھی، وہ انتخابات میں مصروفیت کے باعث اس سانحے کے لیے خود کو تیار نہ کر سکی۔
’پوری ریاست میں وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ انتخابات بن گئے ہیں، ہم ایک اندوہناک سانحہ رونما ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔‘