انڈیا: طبی عملے کو مریضوں کے سمندر کا سامنا، ’حالات انتہائی مشکل ہیں‘

انڈیا میں ڈاکٹروں کے سامنے انتہائی بیمار مریضوں کا سمندر ہے جبکہ ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہونے کے باوجود مریضوں کی آمد کا سلسلہ تھم نہیں رہا۔
انڈین پیرامیڈک انکیٹا پٹیل نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ارد گرد کورونا کی بے قابو صورتحال دیکھتے ہوئے وہ کوشش کرتی ہیں کہ خوف کو اپنے اوپر نہ طاری ہونے دیں اور تمام تر توجہ مریضوں پر ہی رکھیں۔
انکیٹا پٹیل انڈیا کے مغربی شہر احمد آباد میں پیرامیڈک کے طور پر کام کرتی ہیں اور مریضوں کو ہسپتال پہنچانے سے پہلے ہی ایمبولنس میں فوری طبی امداد فراہم کرتی ہیں۔ 
31 سالہ انکیٹا پٹیل گزشتہ دس سال سے یہی فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔
’میں اتنے عرصے سے کام کر رہی ہوں لیکن اب کورونا کے باعث ہمارے لیے حالات انتہائی مشکل ہو گئے ہیں لیکن پھر بھی ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مریضوں کی اچھی دیکھ بھال کی جائے اور انہیں ہسپتال پہنچایا جائے۔‘
مزید پڑھیں
انکیٹا پٹیل نے کہا کہ ویسے تو یہ سب کرنا بہت اچھا لگتا ہے لیکن کبھی کبھار بہت ڈر بھی لگتا ہے، لیکن تمام تر حالات کے باوجود پیرامیڈکس سب کچھ بھولنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے دل میں اچھے احساسات رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کورونا سے بچاؤ کا سفید رنگ کا لباس پہنے اور چہرے کو ماسک سے ڈھانپے، انکیٹا پٹیل سٹریچر پر لیٹی ایک عمر رسیدہ خاتون کا ہاتھ نرمی سے تھامے ہوئے ان کا آکسیجن لیول مانیٹر کر رہی تھیں۔
انکیٹا پٹیل کی فیملی ویسے تو اس شعبے میں کام کرنے کی حمایت کرتی ہے لیکن انکیٹا کو خوف رہتا ہے کہ کہیں وہ وائرس اپنے ساتھ گھر ہی نہ لے آئیں۔
’کبھی کبھار انہیں ڈر بھی لگتا ہے کہ میں اتنے خطرناک حالات میں کام کرتی ہوں اور پھر شام کو گھر آتی ہوں، لیکن پھر بھی وہ میری حمایت کرتے ہیں اور مجھے بھی بہت اچھا محسوس ہوتا ہے کہ اس شعبے میں کام کرنے پر میری فیملی مجھے سراہتی ہے۔‘

انڈیا میں گزشتہ چوپیس گھنٹوں میں تین ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
عالمی وبا سے پہلے، انکیٹا اور ان کے ڈرائیور کو ایمرجنسی کیس سے نمٹنے میں تقریباً دو گھنٹے لگ جاتے تھے، جس میں مریض کو فوری طبی امداد دینا اور انہیں ہسپتال پہنچانا شامل ہے۔
لیکن اب کورونا مریضوں میں اضافے اور ہسپتالوں میں بیڈز کی قلت کے بعد انکیٹا کو کبھی کبھار ایمبولنس میں ہی مریض کو طبی امداد دینے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں، جب تک کہ ہسپتال مریض کو داخل کرنے پر آمادہ نہ ہو جائے۔
لیکن انکیٹا پٹیل کے پاس اپنا کام جاری رکھنے کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں انکیٹا کو ڈاکٹروں کا انتظار کرنا پڑتا ہے جب تک وہ مریض کو داخل نہ کر لیں۔
انکیٹا نے اپنے قریب زمین پر لیٹے ہوئے ایک اور شخص کے بارے میں بتایا کہ انہیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی لیکن ان کا آکسیجن لیول اب بہتر ہو گیا ہے۔
’میں ابھی انہیں سرکاری ہسپتال میں لائی ہوں لیکن یہاں انتظار کرنا پڑے گا، تو ہم بھی انتظار کر رہے ہیں۔‘
دنیا کے دوسرے بڑے آبادی والے ملک انڈیا کورونا وائرس کے باعث شدید بحران سے دوچار ہے۔ ہسپتال اور سرد خانے اپنی گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں، جبکہ ادویات اور آکسیجن کی کمی نے مزید مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ انڈیا کے کئی شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 3 لاکھ 86 ہزار 452 نئے کورونا کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ تین ہزار 498 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈاکٹروں کے خیال میں کورونا متاثرین کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے پانچ یا دس گنا زیادہ ہے۔