انڈیا میں’اخلاقی پولیسنگ‘ کا واقعہ: ہندو لڑکی کے ساتھ سفر پر مسلمان نوجوان پر تشدد

ریاست کرناٹک میں’اخلاقی پولیسنگ‘ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

انڈین ریاست کرناٹک میں ’اخلاقی پولیسنگ‘ کے مبینہ واقعے میں ہندو لڑکی کے ساتھ سفر کرنے والے مسلمان نوجوان کو ایک گروپ نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ ریاست کرناٹک کے شہر منگلورو میں جمعرات کی شب پیش آیا۔
پولیس کے مطابق جوڑا کیرالا سے آنے والی بس میں سفر کر رہا تھا جب تین سے چار نامعلوم افراد نے بس کو روکا اور مسلمان لڑکے کو باہر نکال کر ان پر تشدد کیا۔
مزید پڑھیں
بیس سالہ مسلمان نوجوان سید رسیم عمر کرناٹک کے شہر کرکلا میں واقع ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ خاتون کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
کدری پولیس سٹیشن میں واقعے کی ایف آئی آر درج ہو گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سید رسیم عمر ایک نجی بس میں جمعرات کی شام 4 بجے کیرالا سے لوٹ رہے تھے کہ نامعلوم افراد بس میں داخل ہوئے اور انہیں تشدد کا بنایا۔
ایف آئی آر کے مطابق رسیم عمر کو بس سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور ڈنڈوں سے مار پیٹ کی، ساتھ ہی واقعے کی اطلاع دینے کی صورت میں دھمکیاں بھی دیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہندو قوم پرست جماعت بجرنگ دل کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم تنظیم نے الزامات کو مسترد کیا ہے۔
پولیس کے مطابق ’یہ اخلاقی پولیسنگ کا بھی واقعہ ہو سکتا ہے۔ نامعلوم افراد نے نوجوان کا آئی ڈی کارڈ بھی مانگا۔ ہم سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے واقعے میں ملوث افراد کی نشاندہی کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
ریاست کرناٹک کے ضلع دکشن کنڑا میں ہندو قوم پرست جماعتوں کی جانب سے اخلاقی پولیسنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ستمبر میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جب ہندو لڑکی سے دوستی کرنے پر ایک مسلمان لڑکے کو مارا پیٹا گیا اور جان سے مار ڈالنے کی دھمکی بھی دی گئی۔
ضلع دکشن کنڑا میں ہی اپریل کے مہینے میں ہندو خاتون کو ساتھ بٹھانے پر مسلمان رکشہ ڈرائیور پر تشدد کیا گیا تھا۔