انڈیا میں خاتون سے اجتماعی زیادتی، ایک ہی خاندان کے 11 افراد گرفتار

انڈین پولیس نے کہا ہے کہ اس نے ایک خاتون کے مبینہ اغوا اور اجتماعی زیادتی کے الزام میں کئی خواتین سمیت 11 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انڈیا میں خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔ مبینہ گینگ ریپ کے واقعے کی ملک بھر میں مذمت کی جا رہی ہے۔
نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجروال نے اس واقعے کو ’شرمناک‘ قرار دیا تھا۔
مزید پڑھیں
گینگ ریپ کے بعد خاتون کو نئی دہلی کی سڑکوں پر بھی گھمایا گیا۔ اس واقعے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کے چہرے پر سیاہی مل دی گئی اور ان کے بال بھی کاٹے گئے جبکہ کئی خواتین ان کو دھکیل رہی ہیں اور ان پر جملے کس رہی ہیں۔ راہگیر اس واقعے پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے اور اپنے موبائل سے ویڈیوز بھی بنا رہے تھے۔
پولیس کے ڈپٹی کمشنر آر ستھیا سندرام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مشرقی دہلی کے علاقے شاہدرہ میں بدھ کو پیش آیا اور یہ ہمسایوں کے درمیان ’پرانی دشمنی‘ کا نتیجہ ہے۔
پولیس نے مزید تفصیلات نہیں دیں تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمان کے ایک 16 سالہ رشتہ دار نے مبینہ طور پر اس خاتون کی وجہ سے چلتی ٹرین کے سامنے خودکشی کی تھی۔

نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجروال نے اس واقعے کو شرمناک قرار دیا تھا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ڈپٹی کمشنر آر ستھیا سندرام کا کہنا ہے کہ ’دو کم عمر افراد سمیت تمام 11 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین سب سے آگے تھیں۔‘
متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ’اس خاندان کے افراد نے ان کو اغوا کیا، پھر کئی مردوں اور نابالغ لڑکوں نے ان کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان پر انڈے پھینکے گئے اور پھر لاٹھیوں سے مارا اور سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔‘
پولیس دیگر ملزمان کی شناخت کے لیے ویڈیوز کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ متاثرہ خاتون جو دو برس کے بچے کی ماں ہے، اس کی اب کونسلنگ کی جا رہی ہے۔