انڈیا میں معاشی بحران:’خود بھوکی رہتی ہوں تاکہ بچوں کو کھلا سکوں‘

انڈیا میں کورونا وائرس کے باعث غریب طبقے میں بھوک اور افلاس کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ کئی افراد اب تک اس وبا سے بچاؤ کے پیش نظر گذشتہ سال نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے اثرات بھگت رہے ہیں۔ 
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وبا کے دوران غربت سے لڑنے والی راشیدہ جلیل بھی ان لاکھوں انڈین افراد میں سے ہیں جنہیں ڈر ہے کہ وہ اپنے سات بچوں کا پیٹ نہیں بھر سکیں گی۔ 
مزید پڑھیں
چالیس سالہ راشیدہ جلیل اور ان کے 65 سالہ شوہر عبدالجلیل اور ان کے بچے روزانہ صرف ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔ 
نئی دہلی کے اپنے چھوٹے سے گھر میں روٹی بناتے ہوئے راشیدہ جلیل نے اے ایف پی کو بتایا کہ جب وہ لوگ بھوکے پیاسے ہوتے ہیں تو انہیں یہ سوچ کر پریشانی ہوتی ہے کہ اس حال میں ان کا گزارا کیسے ہوگا۔ 
‘جتنا بھی میرے شوہر کماتے ہیں ہم اس میں گزارا کرتے ہیں۔ اگر وہ کافی نہیں ہوتا تو میں بھوکی رہ جاتی ہوں تاکہ اپنے بچوں کو کھلا سکوں۔’ 
کورونا وائرس کی با کی جہ سے لوگوں کا روزگار چھن جانا بھی انڈیا میں غربت کی وجہ ہے۔

عداد و شمار کے مطابق صرف اپریل میں 73 لاکھ سے زائد افراد اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ فوٹو: ان سپلیش
سینٹر فار مانیٹرنگ دا انڈین اکانومی کے مطابق صرف اپریل میں 73 لاکھ سے زائد افراد اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 
دہلی میں حالیہ لاک ڈاؤن کے باعث عبدالجلیل کا تعمیرات کا کام خسارے کا شکار ہو گیا جس کی وجہ سے وہ رکشہ چلا کر گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
پہلے وہ روزانہ کے حساب سے 500 انڈین روپے کما لیتے تھے اور اب یہ 100 روپے تک آپہنچی ہے۔  
انہوں نے بتایا کہ کہ ‘کچھ دن تو ایسے ہوتے ہیں کہ میں کوئی رقم گھر نہیں لاتا۔’
بنگلور کی عظیم پریمجی یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق گذشتہ برس کورونا وائرس کے پہلے سال کے دوران 23 کروڑ انڈین غربت کا شکار ہوئے تھے۔ 
رائٹ ٹو فوڈ کیمپین کی انجلی بھردواج نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘یہ دگنا بحران ہے جس سے ملک کے غریب دو چار ہیں۔ ملک میں صحت اور معیشت کا بحران ہے۔’