انڈیا میں کورونا بحران: نئی دہلی میں ایک ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ

انڈیا نے یکم مئی سے تمام افراد کو کورونا ویکسین لگانے کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے پیر کی رات سے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انڈیا جہاں اس وقت صرف 45 سال سے اوپر کے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے، میں کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز جنوری میں ہوا تھا۔
جبکہ اب تک 12 کروڑ 30 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔
مزید پڑھیں
لیکن ماہرین وائرس کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ویکسینیشن پروگرام میں تیزی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ وبا نے پہلے سے ہی دباؤ کے شکار نظام صحت پر اور بوجھ ڈال دیا ہے۔
فروری میں کورونا کیسز کی روزانہ تعداد نوے ہزار سے نیچے آ گئی تھی، اس میں ایک دم بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ پیر کو کورونا وائرس کے ریکارڈ دو لاکھ 73 ہزار آٹھ سو 10 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ کیسز کی مجموعی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس صورتحال کے حوالے سے وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ ’وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت ایک اجلاس میں یکم مئی سے 18 سال سے زیادہ عمر کے ہر فرد کو ویکسین لگانے کی اجازت دینے کا ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

انڈیا میں اب تک 12 کروڑ سے زائد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا میں گذشتہ ہفتے سپتنک فائیو کی ایمرجنسی میں استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے قبل انڈین فرم بھارت بائیو ٹیک کی بنائی گئی ایسٹرازینکا کی کوویشیلڈ اور کوواکسن کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔
ویکسینز کے حوالے سے حکومت کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا میں نہ بننے والی ویکسینز کی بھی فوری طور پر منظوری دے دی گئی ہے۔
ویکسینیشن مہم کا اعلان نئی دہلی میں پیر کی رات سے ایک ہفتے کے طویل لاک ڈاؤن کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔
دو کروڑ کی آبادی کے شہر کے ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد کم پڑ گئی ہے اور آکسیجن کی فراہمی بھی متاثر ہے۔
دہلی جو انڈیا کا سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے، وہاں اتوار کو 25 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی تعداد ان مریضوں کی ہے جن میں دوبارہ سے کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
اس ابتر صورتحال پر نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنے ٹی وی خطاب میں کہا کہ ’دہلی کا نظام صحت بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے صورتحال کافی نازک ہے۔‘