انڈیا میں کورونا وائرس کا ڈیلٹا ویریئنٹ ’کے 417 این‘ کیا ہے؟

بدھ 23 جون 2021 20:23

انڈیا سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں وائرس کے اس ویریئنٹ کے خلاف ویکسین کی افادیت کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

انڈیا میں تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویریئنٹ کے 40 کے لگ بھگ کیسز سامنے آنے کے بعد مرکزی حکومت نے ریاستوں سے کہا ہے کہ شہریوں کے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرائے جائیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کورونا وائرس کی تبدیل شدہ شکل رکھنے والی یہ قسم نہایت تیزی سے پھیلتی ہے اور اس کو انڈیا میں ’ڈیلٹا پلس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا پہلا کیس رواں ماہ کی 11 تاریخ کو پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے رپورٹ کیا تھا۔
کورونا وائرس کی اس تبدیل شدہ قسم کو ڈیلٹا ویریئنٹ کی ذیلی نسب سمجھا جاتا ہے جو سب سے پہلے انڈیا میں سامنے آئی اور پروٹین میوٹیشن کے تحت صورت بدلی اس کو ’کے 417 این‘ کا نام دیا گیا۔
مزید پڑھیں
اس تبدیل شدہ وائرس کا بِیٹا ویریئنٹ پہلی بار جنوبی افریقہ میں بھی سامنے آیا تھا۔
بعض سائنسدان اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ وائرس کی میوٹیشن ڈیلٹا ویریئنٹ کے دیگر موجود فیچرز کے ساتھ مل کر اس کو زیادہ تیزی سے پھیلنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
انڈیا کے محکمہ صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کے 417 این وائرس کی نوعیت ریسرچ میں دلچسپی کا باعث ہے کیونکہ یہ بِیٹا ویریئنٹ میں بھی موجود ہے جو قوت مدافعت سے متلق پہلے ہی رپورٹ ہو چکا ہے۔‘
انڈیا کے ایک نمایاں وائرولوجسٹ شاہد جمیل نے بتایا کہ یہ تبدیل شدہ شکل کا وائرس اینٹی باڈیز کے مؤثر ہونے میں کمی لانے کے لیے جانا جاتا ہے۔
ڈیلٹا ویریئنٹ کورونا وائرس کے 16 جون تک کم از کم 197 کیسز سامنے آ چکے ہیں جو دنیا کے گیارہ ملکوں میں رپورٹ کیے گئے۔ ان ممالک میں برطانیہ، کینیڈا، انڈیا، جاپان، نیپال، پولینڈ، پرتگال، روس، سوئٹزرلینڈ، ترکی اور امریکہ شامل ہیں۔
بدھ کو انڈیا میں حکام نے بتایا کہ اس ویریئنٹ کے 40 کیسز تین ریاستوں مہاراشٹر، کیرالہ اور مدھیہ پردیش میں سامنے آئے تاہم ان کے تیزی سے پھیلاؤ کے حوالے سے کوئی حقائق سامنے نہیں آئے۔ انڈیا میں اس تبدیل شدہ شکل کے وائرس کے پہلا کیس پانچ اپریل کو لیے گئے سیمپل کے ٹیسٹ میں سامنے آیا تھا۔

اس ویریئنٹ کا پہلا کیس رواں ماہ کی 11 تاریخ کو پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے رپورٹ کیا تھا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
برطانیہ نے کہا ہے کہ اس تبدیل شدہ وائرس کے پانچ کیسز 26 اپریل کو رپورٹ کیے گئے تھے اور یہ افراد ایسے لوگوں سے ملے تھے جنہوں نے نیپال اور ترکی کا سفر کیا تھا۔
برطانیہ اور انڈیا میں تبدیل شدہ شکل والے وائرس سے تاحال کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں کی گئی۔
انڈیا سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں وائرس کے اس ویریئنٹ کے خلاف ویکسین کی افادیت کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ وہ اس ویریئنٹ کو ڈیلٹا ویریئنٹ کے ایک حصے کے طور پر ٹریک کر رہا ہے اور اس کے ساتھ وائرس کے دیگر ویریئنٹس پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے جن کی میوٹیشن ہوئی ہے۔