انڈیا میں کورونا کیسز میں کمی، ’یہ آرام سے بیٹھنے کا وقت نہیں‘

انڈیا میں پیر کو کورونا وائرس کے نئے کیسز اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے بعد ملک گیر لاک ڈاؤن کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے جس کی وجہ سے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق وزارت صحت نے بتایا ہے کہ انڈیا میں 366،161 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور تین ہزار 754 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں جو کورونا کی حالیہ انتہا سے کچھ کم تعداد ہے۔
مزید پڑھیں
کئی ریاستوں میں گذشتہ مہینے سے سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے جبکہ دیگر نے نقل و حرکت پر پابندی، سینما گھروں، ریستورانوں اور شاپنگ مالز کو بند کر رکھا ہے۔
تاہم نریندر مودی پر ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگانے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جیسا کہ انہوں نے گذشتہ سال اس وبا کی پہلی لہر کے دوران کیا تھا۔
انڈین وزیراعظم کو گذشتہ دو مہینوں کے دوران مذہبی اجتماعات کی اجازت دینے اور الیکشن ریلیاں نکالنے کی وجہ سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکہ میں میسا چوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ویپن نارنگ نے اپنی ایک ٹویٹ میں اسے ’گورننس کی بڑی ناکامی‘ قرار دیا ہے۔

انڈین وزیراعظم کو گذشتہ دو مہینوں کے دوران مذہبی اجتماعات کی اجازت دینے اور الیکشن ریلیاں نکالنے کی وجہ سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
اتوار کو  وائٹ ہاؤس کے کورونا وائرس سے متعلقہ ایڈوائزر ڈاکٹر انتھونی فوکی نے بتایا کہ انہوں نے انڈین حکام کو ہدایت کی ہے کہ انہیں سب کچھ بند کرنے کی ضرورت ہے۔
فوکہ نے اے بی سی کے شو ’دس ویک‘ میں کہا کہ ’آپ کو شٹ ڈاؤن کرنا پڑے گا۔ میرا خیال ہے کہ کئی انڈین ریاستیں ایسا پہلے ہی کر چکی ہیں لیکن آپ کو (وائرس کی) منتقلی کی یہ زنجیر توڑنا ہوگی اور ایسا کرنے کا ایک راستہ شٹ ڈاؤن ہے۔‘
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں لاک ڈاؤن چوتھے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے، دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ ’یہ آرام سے بیٹھنے کا وقت نہیں ہے، یہ ایک مشکل مرحلہ ہے، یہ لہر خطرناک ہے، بہت سے لوگ مر رہے ہیں، اس وقت لوگوں کی جانیں بچانا ترجیح ہے۔‘