انڈیا: نریندر مودی کابینہ کے 12 وزرا مستعفی

انڈیا میں مرکزی حکومت کے 12 وزرا ایک ساتھ اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں جن میں صحت، آئی ٹی اور تعلیم کے وزرا بھی شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزرا کے استعفوں کی وجہ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کابینہ میں ہونے والی رد و بدل ہے جو کورونا کیسز میں بے حد اضافے اور اہم ریاستی انتخابات سے پہلے کی گئی ہے۔
بدھ کے روز صدر رام ناتھ کووِند کے دفتر سے جاری ہونے والے  بیان میں کہا گیا ہے کہ 12 وزرا اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ تاہم وزارت داخلہ، دفاع، خارجہ اور خزانہ کے وزرا کو تبدیل نہیں کیا گیا۔ 
مزید پڑھیں
انڈین این ڈی ٹی وی کے مطابق کورونا کی بے قابو صورتحال اور معیشت پر ہونے والی شدید تنقید کے رد عمل میں وزیراعظم نریندر نے کابینہ میں رد و بدل کی ہے۔
36 نئے وزرا وزیراعظم نریندر مودی کی کابینہ میں شامل ہوئے ہیں جس کے بعد کل وزرا کی تعداد 77 ہے۔ کابینہ میں شامل ہونے والے تقریباً آدھے وزرا نئے ہیں۔
مستعفی ہونے والے وزیر صحت ہرش وردھن کو مئی اور اپریل میں کورونا کیسز میں بے حد اضافے کے باعث تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کورونا وبا کی بے قابو صورتحال کی وجہ سے انڈیا کے اکثر علاقوں میں مریضوں کو ہسپتال میں بیڈز کی قلت، آکسیجن اور ادویات کی عدم دستیابی کا سامنا رہا ہے۔
مستعفی ہونے والے وزیر برائے آئی ٹی و انصاف روی شنکر پرساد گزشتہ چند ماہ سے غیر ملکی سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ مختلف تنازعات میں الجھے ہوئے تھے۔

بی جے پی کے اہم رکن روی شنکر پرساد بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے ہیں۔ فوٹو زی نیوز
ان کی وزارت کی جانب سے قواعد میں کی گئی تبدیلی کے تحت کسی بھی ایسی پوسٹ کو ہٹایا جا سکتا ہے جس کے باعث انڈیا کی خودمختاری، سکیورٹی یا عوامی نظم و ضبظ کو خطرہ ہو۔
 تاہم انڈین میڈیا کے مطابق ریاستی انتخابات سے پہلے روی شنکر پرساد کو حکومتی جماعت بھارتیا جنتا پارٹی میں اہم عہدہ دیے جانے کا امکان تھا۔
مستعفی ہونے والے وزرا میں وزیر برائے ماحولیات پرکاش جاوڈیکر کے علاوہ وزیر برائے انفارمیشن و براڈ کاسٹنگ اور وزیر برائے ہیوی انڈسٹریز کے شامل ہیں۔ تاہم پرکاش جاوڈیکر کا بطور حکومتی ترجمان بھی اہم کردار تھا جو وہ گزشتہ کئی سالوں سے نبھا رہے تھے۔ پرکاش جاوڈیکر کی طرح تجربہ کار سیاستدان روی شنکر پرساد کا شمار ان چند وزرا میں ہوتا ہے جو بی جے پی کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی کابینہ کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔
صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر برائے صحت رمیش پوکھریال نشانک بھی عہدے سے مستعفی ہوئے ہیں۔