انڈیا: کورونا کے مریض ’سانسوں کی ڈور بحال رکھنے کے لیے‘ خیمے میں

نئی دہلی کے مضافاتی علاقے میں ایک مصروف سڑک کے قریب بیٹھی ہمانشو ورما کی والدہ کو جب آکسیجن کا ماسک لگایا گیا تو انہوں نے سکون کا سانس لیا۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انڈیا میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز اور ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کے باعث مریض، گاڑیوں، رکشوں اور ایمبولنیسز میں غازی آباد شہر میں ایک گوردواے کے باہر لگے خیمے کا رخ کر رہے ہیں۔
32 برس کے ہمانشو ورما کی والدہ جب آکسیجن کا ماسک لگائے ہوئے تھیں، اس وقت ورما نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمیں علاج کی ضرورت ہے، دہلی کے ہسپتالوں میں کوئی بستر نہیں مل رہا تھا۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو ہم ساری رات یہاں رکیں گے، ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں۔‘
ہمانشو ورما کے اردگرد کورونا وائرس کے مریض بینچز اور رکشوں میں بیٹھے سانس کے لیے تڑپ رہے تھے۔
گوردوارے کی خالصہ ہیلپ انٹرنیشل کے رضاکار اشانت بندرا کا کہنا ہے کہ ’ہر روز کورونا وائرس کے نئے کیسز آ رہے ہیں۔‘
انڈیا میں گذشتہ ہفتے دو اعشاریہ تین ملین نئے کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
دہلی جو سب سے زیادہ کورونا وائرس کا شکار شہر ہے، ہر روز بیس سے 25 ہزار کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
مریض ہسپتالوں کے باہر داخل ہونے کے انتظار میں جانیں کھو رہے ہیں۔
ٹوئٹر اور فیس بک پریشان افراد کی درخواستوں سے بھری ہوئی ہیں جہاں وہ ٹینکوں اور اس کے بھرنے کی جگہوں کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں۔

انڈیا میں کیسز بڑھنے کے ساتھ آکسیجن کی کمی بھی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
30 برس کی پرینکا منڈل کا کہنا ہے کہ جب ان کی 55  سالہ زیابیطس والدہ کی طبیعت خراب ہوئی تو وہ انہیں ہسپتال میں داخل نہیں کروا پا رہی تھی۔
انہوں نےبتایا کہ انہیں ایک خاتون ملیں جو اپنا چھ کلوگرام کا سیلینڈر تیس ہزار میں بیچ رہی تھی۔ ’یہ قیمت مارکیٹ کی قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔‘
پرینکا منڈل نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی والدہ کو مسلسل بخار ہے اور اب وہ سانس بھی نہیں لے پا رہی ہیں۔ ان کی آکسیجن کی سپلائی بھی ختم ہو چکی تھی۔
گوردوارے میں بھی زیادہ آکسیجن دستیاب نہیں اور یہ بین الاقوامی ڈونرز کی جانب سے میڈیکل کی سپلائی دیے جانے کے بعد بحران کی عکاسی کر رہا ہے۔