انڈیا: ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس اہلکار نے سٹول کیوں پہن لیا؟

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ضلع اناؤ میں اس وقت مضحکہ خیز صورتحال پیدا ہو گئی جب دو پولیس والوں نے ایک مقامی مظاہرے کو روکنے کے دوران خود کو محفوظ رکھنے کے لیے غیر روایتی چیزوں کا استعمال کیا۔
انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق دو روز قبل منگل کو اکرم پور کے رہائشیوں نے دو افراد کی ایک سٹرک حادثے میں ہلاکت پر احتجاج کیا تھا لیکن گذشتہ روز مشتعل رشتے داروں نے ایک اور مظاہرہ کیا اور سڑک پر لاشیں رکھ کر اسے بند کر دیا۔
مزید پڑھیں
جب مظاہرین سے نمٹنے کے لیے پولیس پہنچ گئی  تو پہلے ہی سے کشیدہ صورتحال قابو سے باہر ہوگئی اور دیہاتی پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کرنے لگے۔ جس سے متعدد اہلکاروں کو شدید چوٹیں آئیں۔
اس تناؤ اور تشدد کی ایک چار سیکنڈ پر محیط ویڈیو کلپ سوشل میڈیا بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی۔

دیہاتیوں کے پتھراؤ سے متعدد اہلکار زخمی ہوگئے۔ (فوٹو: این ڈی ٹی وی)
اس میں ایک پولیس اہلکار کو ہیلمٹ کے طور پر پلاسٹک کا سٹول ‘پہنے’ اور دوسرے کو ڈھال کے طور پر ٹوکری کا استعمال کرتے دکھایا گیا۔
اس مختصر ویڈیو میں پولیس اہلکار کو پلاسٹک کے سٹول کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ جسے وہ ایک ہاتھ سے پکڑتا ہے جبکہ اس کے دوسرے ہاتھ میں ڈنڈا ہے اور وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس واقعے پر سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو معطل کر دیا گیا ہے۔
اتر پردیش کی پولیس نے ٹوئٹر پر ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’مقامی حکام سے اس کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔‘
اس واقعے کے دیگر کلپس میں پولیس اور دیہاتیوں کو ایک دوسرے پر پتھراؤ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ دیہاتیوں نے مرکزی سڑک کا ایک حصہ مکمل طور پر اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے۔
ایک خاص منظر میں گہرے نیلے رنگ کی ساڑھی پہنے ایک عمر رسیدہ خاتون کو کسی پر بھاری پتھر پھینکتے دیکھا جا سکتا ہے۔