’انڈین یوگا گرو نے طبی عملے کی حوصلہ شکنی کی، بیان واپس لیں‘

انڈیا کے نامور یوگی گرو بابا رامدیو نے طبی کارکنان پر ملک میں کورونا وائرس کی بڑھتی اموات کا الزام لگایا تھا تاہم اس کے جواب میں ڈاکٹرز کی جانب سے غم و غصے کے اظہار کی وجہ سے انڈیا کے وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے یوگی رامدیو کو اپنا بیان واپس لینے کے لیے کہا ہے۔
مزید پڑھیں
عرب نیوز کے مطابق بابا رامدیو کو لکھے ایک خط میں وزیر صحت نے کہا ہے کہ، ‘آپ نے نہ صرف کورونا کے خلاف لڑنے والوں کی تذلیل کی ہے بلکہ ملک کے لوگوں کو دکھ بھی دیا ہے۔ اس بارے میں گہرائی سے سوچیں اور اپنا بیان مکمل طور پر واپس لیں۔’
انڈیا میں شعبہ طب کے انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نامی مشہور حلقے نے اس سے قبل انڈین حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ بابا رامدیو کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کے سیکرٹری ڈاکٹر جیش نے عرب نیوز کو بتایا کہ ‘ہم نے ان کے خلاف کیس دائر کر رکھا ہے اور انہیں قانونی نوٹس بھی بھجوایا ہے۔ ہم ایک قومی مہم چلائیں گے۔’
انہوں نے مزید کہا کہ رامدیو کا بیان طبی کارکنان کی ‘حوصلہ شکنی’ تھا اور یہ ‘کورونا وائرس کے خلاف لڑائی کو نقصان پہنچا سکتا ہے’۔
ڈاکٹر جیش کا یہ بھی کہنا تھا کہ رامدیو کے جھوٹے بیانات سے لوگ متاثر ہوں گے کیونکہ وہ ہسپتال جانیں سے ہچکچائیں گے، علاج کو ٹالیں گے اور وائرس کا شکار بنیں گے۔ ‘اسی لیے حکومت کو رامدیو کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔’

رامدیو کا کہنا تھا ‘لاکھوں مریض ایلوپیتھک دواؤں کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔’ فائل فوٹو: اے ایف پی
واضح رہے کہ جمعرات کو گرو نے، جنہیں انڈیا میں ایک بڑی تعداد مانتی ہے، طبی کارکنان کو ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران اموات کی بڑی تعداد کے لیے قصوروار ٹھہرایا تھا۔ 
شمالی انڈیا کے شہر ہریدوار میں اپنے مداحوں کو انہوں نے کہا تھا کہ ‘لاکھوں مریض ایلوپیتھک دواؤں کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں، آکسیجن کی کمی کے باعث نہیں۔’
رامدیو کا ہریدوار میں ایک یوگا سینٹر ہے جہاں وہ ایورویدک دواؤں کا 10 کروڑ ڈالر کا کاروبار سنبھالتے ہیں۔