انڈے کھانے پر کوہلی کی ٹرولنگ، ’ہمیشہ کہا سبزی خور ہوں‘

انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی نے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی ‘ویگن’ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔
منگل کو وراٹ کوہلی نے یہ بات ایک ٹویٹ میں اس وقت لکھی جب ان کو انڈے کھانے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ٹرول کیا جانے لگا۔
اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق برسوں قبل سٹار انڈین بلے باز نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ’ویگن‘ ہیں۔
مزید پڑھیں
کوہلی نے لکھا کہ ’میں نے کبھی ویگن ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ ہمیشہ یہ بتایا کہ میں سبزی خور ہوں۔ ایک گہری سانس لیں اور اپنی سبزیاں (اگر آپ چاہتے ہیں) کھائیں۔‘
خیال رہے کہ گوشت نہ کھانے والے افراد کے لیے انگریزی میں دو اصطلاحات رائج ہیں: ’ویجیٹیرین‘ یعنی سبزی خور اور ’ویگن۔‘
ویجیٹیرین وہ ہوتے ہیں جو گوشت تو نہیں کھاتے لیکن انڈے، دیسی گھی اور دودھ استعمال کر لیتے ہیں۔ دوسری طرف ویگن کٹر سبزی خور ہوتے ہیں اور جانوروں سے حاصل کردہ ہر چیز بشمول انڈے، گھی، دودھ، حتیٰ کہ شہد تک سے پرہیز کرتے ہیں۔
وراٹ کوہلی ان دنوں انڈین کرکٹ ٹیم کے ساتھ ممبئی کے ایک ہوٹل میں قرنطینہ میں وقت گزار رہے ہیں۔

کوہلی ان دنوں انڈین کرکٹ ٹیم کے ہمراہ ممبئی کے ہوٹل میں قرنطینہ میں وقت گزار رہے ہیں۔ فوٹو: ویڈیو گریب
رپورٹ کے مطابق کوہلی کی اہلیہ اور بالی وڈ اداکارہ انوشکا شرما ویگن ہیں اور انڈین کپتان قبل ازیں تسلیم کر چکے ہیں کہ ان کی اہلیہ نے ان کے کھانے کی عادات تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
چند دن قبل انسٹاگرام پر ’مجھ سے کچھ بھی پوچھ لیجیے‘ کے ایک آن لائن سیشن میں کوہلی نے مداحوں کے سوالوں کے جواب میں کہا تھا کہ ان کے کھانے میں بہت ساری سبزیاں، کچھ انڈے، کافی کے دو کپ، قنواہ، زیادہ سی پالک  شامل ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈوسا کھانا بھی پسند کرتے ہیں مگر ان تمام کھانوں کی مقدار کو کنٹرول میں رکھتا ہوں۔
عرصہ قبل وراٹ کوہلی ان وجوہات کے بارے میں بھی بات کر چکے ہیں جن کی وجہ سے وہ کھانے میں ویگن بنے۔
’مجھے سرویکل سپائن کا مسئلہ پیش آیا جس کی وجہ سے میری چھوٹی انگلی میں کپکپاہٹ محسوس ہوتی تھی اور بلے بازی کرنا مشکل ہو جاتا۔ سنہ 2018 میں جنوبی افریقہ کے خلاف سنچورین ٹیسٹ میں یہ مسئلہ شروع ہوا۔ اس کے علاوہ میرے معدے میں تیزابیت بڑھ چکی اور یورک ایسڈ بڑھنے سے میرے معدے نے ہڈیوں سے کیلشیم نکالنا شروع کر دیا جو کمر کے مسئلے کی صورت میں سامنے آیا۔‘
کوہلی نے بتایا تھا کہ اس وجہ سے انہوں نے گوشت کھانا چھوڑ دیا اور پھر وہ بہتر محسوس کرنے لگے۔