’انہوں نے میری جان بچائی،‘ لیسٹر میں مسلمان شخص نے رام کیشوال کو کیسے بچایا؟

رام کیشوال پر حملے کا واقعہ 17 ستمبر کو پیش آیا تھا۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

برطانیہ شہر لیسٹر میں پچھلے دنوں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایشیا کپ کے ایک میچ کے بعد مسلمان اور ہندو کمیونٹی کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی اور اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں دونوں گروپوں کے افراد زخمی ہوئے تھے۔
لیسٹر میں ہونے والی یہ جھڑپیں 28 اگست کو ایشیا کپ کے پاکستان اور انڈیا میچ کے بعد شروع ہوئی تھیں جب پاکستانی شہری اور انڈین شہری آمنے سامنے آگئے تھے۔
لیکن ان پرتشدد واقعات کے دوران ایک ایسی کہانی بھی منظرعام پر آئی ہے جس میں ایک مسلمان شخص نے دنگے کے دوران ایک ہندو شخص کی جان بچائی ہو۔
مزید پڑھیں
سوشل میڈیا پر کچھ دن قبل ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک جتھے کو ایک سفید گاڑی کو گھیرنے کے بعد اس میں بیٹھے شخص پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
گاڑی میں بیٹھے ہوئے شخص کا نام رام کیشوال تھا جن پر مسلمانوں کے ایک مشتعل گروہ نے یہ الزام لگایا تھا کہ انہوں نے مسلمان افراد پر گاڑی چڑھادی ہے۔
جب وہاں موجود افراد نے رام کیشوال کو گاڑی سے اتارنے کی کوشش کی تو مسلمان شہری ماجد فری مین بیچ میں آگئے اور کہا کہ ’اسے چھوڑدو‘ اور گاڑی کا دروازہ دوبارہ بند کردیا۔
اس حملے میں رام کیشوال کے سر پر چوٹ آئی تھی اور انہیں ٹانکے بھی لگے تھے۔
برطانوی میڈیا ادارے سکائی نیوز کے مطابق 17 ستمبر کے اس واقعے کے بعد رام کیشوال اور ماجد فری مین کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انہیں ایک کیفے میں بیٹھا دیکھا جاسکتا ہے۔
ویڈیو میں رام کیشوال کہہ رہے ہیں کہ ’انہوں (ماجد) نے میری جان بچائی۔ انہی کی وجہ سے آج میں یہاں موجود ہوں۔‘
سکائی نیوز کی یہ ویڈیو ماجد نے بھی شیئر کی اور لکھا ’مجھے خوشی ہے کہ وہ (رام کیشوال) شدید زخمی نہیں ہوئے۔‘