اوسلو میں فائرنگ، ’مشتبہ شخص ایرانی نژاد شہری ہے‘

ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے ایک نائٹ کلب اور اس کے گرد و نواح میں فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں پولیس حکام نے کہا کہ فائرنگ کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ’وہ ایرانی نژاد نارویجیئن شہری ہے اور پہلے بھی چھوٹے موٹے جرائم میں پولیس کو مطلوب تھا۔‘
پولیس نے حملہ کرنے والے شخص سے دو ہتھیار بھی قبضے میں لیے ہیں۔
مزید پڑھیں
پولیس کے ترجمان ٹور برسٹیڈ نے کہا ہے کہ 14 افراد کو طبی مدد فراہم کی گئی جبکہ آٹھ افراد ہسپتال میں داخل ہیں۔
ناروے کے سرکاری میڈیا کے ایک صحافی اولف روئنبرگ کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کے چشم دید گواہ ہیں۔
انہوں نے سرکاری میڈیا این آر کے کو بتایا کہ ’انہوں نے ایک شخص کو بیگ کے ساتھ آتے ہوئے دیکھا۔ اس نے ہتھیار نکالا اور فائرنگ شروع کر دی۔ پہلے مجھے خیال آیا کہ یہ ایک ایئرگن ہے۔ پھر ساتھ والے بار کا شیشہ ٹوٹ گیا اور میں سمجھ گیا کہ مجھے ایک محفوظ جگہ پناہ لینی چاہیے۔‘
ناروے کے وزیراعظم یونس گار ستورا نے فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ ’آج رات اوسلو میں لندن پب کے باہر معصوم لوگوں پر فائرنگ ایک ظالمانہ حملہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے محرکات واضح نہیں تاہم فائرنگ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ اس نے حملہ کرنے والے شخص سے دو ہتھیار بھی قبضے میں لیے ہیں۔ (فوٹو: اے پی)
کرسچیئن بریدلی جو اس وقت بار میں موجود تھے، نارویجیئن اخبار وی جی کو بتایا کہ وہ دیگر دس افراد کے ساتھ چوتھی منزل میں چھپ گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’بہت سے لوگ اپنی حفاظت کے لیے خوفزدہ تھے۔ باہر جاتے ہوئے ہم نے کئی زخمیوں کو دیکھا۔ اس لیے ہم سمجھ گئے کہ سنگین واقعہ پیش آیا ہے۔‘
واضح رہے کہ ناروے نسبتاً محفوظ ملک ہے لیکن اس نے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے پُرتشدد حملوں کو سامنا کیا ہے۔ 2011 میں ناروے میں ایک مسلح شخص نے 69 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ یہ یورپ کا بدترین فائرنگ کا واقعہ تھا۔
2019 میں ایک دائیں بازو کے انتہا پسند نے اپنی سوتیلی بہن کو قتل کے بعد مسجد میں فائرنگ کی تھی تاہم کسی بھی نقصان سے پہلے پولیس نے اس کو پکڑ لیا تھا۔