اوورسیز پاکستانیوں کو ان کے ممالک میں وراثتی سرٹیفکیٹ دینے کا آغاز

پاکستان کی وفاقی حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کے ممالک میں ہی وراثتی سرٹیفکیٹ فراہم کرنے کی سہولت کا آغاز کر دیا ہے۔
ابتدائی طور پر اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے برطانیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں وراثتی سرٹیفکیٹ کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
اس مقصد کے لیے برطانیہ میں لندن، برمنگھم، مانچسٹر اور بریڈفورڈ، جبکہ سعودی عرب میں جدہ ریاض اور مدینہ، متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی اور دبئی جبکہ قطر میں دوحہ میں دس سہولت یونٹ قائم کیے گئے ہیں۔
ان سہولت یونٹس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور جلد چاروں صوبوں کے عوام بھی مستفید ہو سکیں گے۔
اسلام آباد میں نادرا کے بلیو ایریا میں قائم میگا سینٹر میں وراثتی سرٹیفیکیٹ کا شعبہ قائم کر دیا گیا ہے جو نہ صرف مقامی شہریوں بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے تمام مراحل کا ذمہ دار ہوگا۔
اس شعبے کے نگران سکندر حیات نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ ’ابتدائی طور پر وراثتی سرٹیفکیٹ کے حوالے سے حال ہی میں منظور ہونے والے قانون کا دائرہ وفاقی دارالحکومت ہے۔ تاہم جلد ہی صوبے بھی اس حوالے سے قانون سازی مکمل کر لیں گے جس کے بعد یہ سہولت پورے ملک میں اور بیرون ملک مقیم پورے پاکستان کے شہریوں کو دستیاب ہوگی۔

وراثتی سرٹیفکیٹ کے حصول کے مراحل

وراثتی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے کسی بھی شہری کو پانچ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
پہلے مرحلے میں وراثتی سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست گزار کو درخواست کے ساتھ اپنا شناختی کارڈ، وفات پانے والے فرد کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ نمبر فراہم کرنا ہوگا۔
دوسرے مرحلے میں درخواست گزار نادرا کے مجوزہ بیان حلفی کے ذریعے وفات پانے والے شخص کے قانونی ورثا اور اسلام آباد میں اس کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔
تیسرے مرحلے میں درخوست گزار تمام قانونی ورثا کے ساتھ نادرا کے رجسٹریشن مرکز آئے گا جہاں تمام قانونی ورثا کی بائیو میٹرک تصدیق اور فراہم کی گئی تفصیلات کی تصدیق کی جائے گی۔

وراثتی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے کسی بھی شہری کو پانچ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
چوتھے مرحلے میں نادرا متعلقہ جائیداد او وراثتی کے دعویداروں سے متعلق اپنی ویب سائٹ اور قومی اخبارات میں اشتہار شائع کرے گا۔ اگر کسی کو اس اشتہار میں درج معلومات پر اعتراض ہوگا تو نادرا سے رجوع کر سکے گا۔
پانچویں اور آخری مرحلے میں اگر کسی بھی فرد یا ادارے کی جانب سے متعلقہ جائیداد یا قانونی ورثا پر کوئی اعتراض نہیں آتا تو نادرا وراثتی سرٹیفیکٹ پرنٹ کرکے درخواست گزار کو دینے کا پابند ہوگا۔

وراثتی سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے کون سی دستاویز درکار ہیں؟

نادرا کے بتائے گئے طریقہ کار کے مطابق وراثتی سرٹیفیکیٹ کے حصول کے لیے درخواست گزار متوفی کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ، متوفی کے شناختی کارڈ کی منسوخی کا لیٹر، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (ایف آر سی) قانونی ورثا کی فہرست اور ان کے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپیاں اور متوفی کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی تفصیلات جن کی وراثت کے لیے سرٹیفکیٹ درکار ہے، فراہم کرے گا۔
ان کے علاوہ اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ بیان حلفی جس میں تمام جائیدادوں کی تفصیل، قانونی ورثا کے حصہ جات کی تفصیل اور نادرا کی جانب سے طلب کی گئی کوئی بھی ضروری دستاویز فراہم کرنا ہوگی۔

وراثتی سرٹیفکیٹ کی فیس کیا؟

نادرا نے وراثتی سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے ابتدائی طور پر تین الگ الگ شرح فیس متعارف کرائی ہے۔ اگر کسی بھی جائیداد کی قیمت ایک لاکھ روپے سے زائد ہے تو اس کے لیے فیس 20 ہزار روپے ہوگی۔ اگر قیمت ایک لاکھ روپے سے کم ہوگی تو یہ فیس 10 ہزار روپے ہوگی۔
اگر کسی شہری کو ڈپلیکیٹ سرٹیفکیٹ درکار ہوگا تو وہ پانچ ہزار روپے فیس ادا کرکے حاصل کر سکتا ہے.

وراثتی سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست گزار کو درخواست کے کاغذات فراہم کرنا ہوگا (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں وراثتی سرٹیفکیٹ کے حصول کا پرانا نظام انتہائی پیچیدہ اور طویل تھا جس کی وجہ سے ایک تو سرٹیفکیٹ کے حصول میں کئی سال لگ جاتے تھے دوسرا یہ کہ مقامی سطح کی عدالتوں پر کام کا بہت زیادہ بوجھ تھا۔ اس حوالے سے نئے نظام کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
وفاقی حکومت نے فروری 2020 میں ’لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹس ایکٹ 2020‘ نافذ کیا تھا۔ اس قانون کے تحت وراثتی سرٹیفیکیٹ کی 15 دن میں فراہمی کا نظام متعارف کیا گیا جو جنوری 2021 میں نافذ کیا گیا۔
وزارت قانون کے ترجمان کے مطابق ’اس نظام کے تحت نادرا کے ذریعے دستاویزات کی تصدیق سے جائیداد کی ورثا کو منتقلی کے دوران کسی بھی قسم کے دھوکے یا فراڈ کا امکان مکمل طورپر ختم ہو جائے گا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ’اس عمل سے جہاں وقت اور پیسوں کی بچت ہو سکے گی وہاں عدالتی نظام پر پڑنے والے کام کے اضافی بوجھ میں بھی بڑی حد تک کمی واقع ہو سکے گی۔‘​