اوورسیز پاکستانی ہمارے حلقوں میں ووٹ نہیں دے سکتے: احسن اقبال

ہفتہ 12 جون 2021 13:42

مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’اووسیز پاکستانیوں کے لیے قومی اسمبلی میں نشستیں مخصوص کی جا سکتی ہیں۔‘ (فوٹو اے ایف پی)

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کے حالات کا علم نہیں لہذا وہ پاکستان میں ووٹ کاسٹ نہیں کر سکتے۔
سنیچر کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ’اپوزیشن اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹوں کی مخالف نہیں ہے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ایک شخص جو پیرس میں رہ رہا ہے، جو سان فرانسسکو میں رہ رہا ہے، جو لندن میں رہ رہا ہے اس کو ناروال، جیکب آباد اور لالہ موسیٰ کے حلقے کے مسائل کا کیا پتا ہے۔‘
انہوں نے اوور سیز پاکستانیوں کے حوالے سے مزید کہا کہ ’انہیں اس بات کا پتا ہے کہ لندن کی آب و ہوا کیسی ہے، نیویارک کے اندر کرائم کی صورتحال کیا ہے۔ جو شخص بیرون ملک بیٹھا ہے اسے ہمارے ملک کے حالات کی خبر نہیں، وہ ہمارے حلقوں میں ووٹ نہیں دے سکتا۔‘
مزید پڑھیں
مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’اووسیز پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں تو ان کے لیے نشستیں مخصوص کی جا سکتی ہیں۔ اس کے بجائے کہ ان کے لیے آن لائن ووٹنگ کے ذریعے ان کے ووٹوں کو ہیک کرنے کا دروازہ کھولا جائے۔ دنیا کی ہر حکومت نے کہہ دیا ہے کہ آن لائن ووٹنگ محفوظ نہیں ہے۔‘
انتخابی اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’ہماری تجاویز انتخابی اصلاحات سے متعلق دستاویزات منسلک تھیں لیکن کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی کہ اتفاق رائے پیدا ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ پی ٹی آئی اگلا الیکشن چوری کرنا چاہتی ہے۔‘
’اگر ہم کسی بھی حکومت کو یہ حق دے دیں کہ یکطرفہ انتخابی قوانین کو تبدیل کرے تو پاکستان میں آزاد منصفانہ الیکشن کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا۔‘
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں احسن اقبال نے کہا کہ ’متعدد ترقیافتہ ممالک نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ اس میں شناخت خفیہ نہیں رہتی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ 30 لاکھ ای وی ایم میں سے 25 ہزار میں اپنی تیار کردہ پروگرامنگ منسلک کردیں تو وہ خاص نوعیت کا نتیجہ جاری کر دے گی۔‘
احسن اقبال نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کو معلوم ہوگیا کہ اگلے الیکشن میں اس کا سیاسی جنازہ اٹھنے والا ہے۔‘
انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اس معاملے پر الیکشن کمیشن اور اپوزیشن کے ساتھ بیٹھیں، الیکشن کمیشن سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔