اُون کی موٹی تہہ میں چھپی بھیڑ جو ’پانچ سال تک نظروں سے اوجھل رہی‘

جمعرات 25 فروری 2021 14:41

باراک نامی اس بھیڑ کی کھال پر سالوں سے صفائی نہ ہونے کے باعث مٹی اور گرد جمع ہوگئی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی

آسٹریلیا کے بیابان میں گھومنے والی ایک جنگلی بھیڑ پر لدی 35 کلوگرام وزنی اون ہٹا لی گئی ہے جو پانچ سال کے عرصے میں اس کے جسم پر جمع ہوئی تھی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق باراک نامی اس بھیڑ کا جسم سالوں سے صفائی نہ ہونے کے باعث مٹی اور گرد سے اٹ چکا تھا اور یہ مقامی افراد کی نظروں سے اوجھل رہی۔
مزید پڑھیں
ایڈگر مشن فارم سینکچوری نامی جانوروں کی پناہ گاہ نے فیس بک پر لکھا ہے کہ ’اس بھیڑ کو کٹورین سٹیٹ کے ایک جنگل میں پایا گیا اور میلبورن شہر کے شمال میں واقع پناہ گاہ لے جایا گیا۔‘
پناہ گاہ کی بانی پیم آہرن نے آسٹریلیوی خبر رساں اداے نائن نیوز کو بتایا کہ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ اُون کی اس موٹی تہہ کے نیچے واقعی ایک زندہ بھیڑ تھی۔
اس بارے میں اندازہ لگاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’اس بھیڑ کا اونی کوٹ تقریباً پانچ سال سے نہیں اتارا گیا تھا۔‘
 

اتنے وزن میں زندہ رہنے کے باوجود باراک ورلڈ ریکارڈ نہ قائم کر سکا۔ فوٹو: اے ایف پی
دنبوں کے جسم سے اگر اُون نہ اتاری جائے تو انہیں چلنے میں مشکل پیش آتی ہے اور اگر ایک سال تک ان پر سے صفائی نہ کی جائے تو وہ جنگلات میں زندہ نہیں رہ سکتے، خاص طور پر آسٹریلیا کے اکثر گرم اور خوش موسم میں۔
تاہم اتنے وزن میں زندہ رہنے کے باوجود باراک ورلڈ ریکارڈ نہ قائم کر سکی۔ 2016 میں کرس نامی بھیڑ کے جسم سے 41 کلو بھاری اون ہٹائی گئی تھی۔