آئندہ دنوں میں مزید آڈیوز منظر عام پر آئیں گی: عمران خان

عمران خان کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کو ڈیل کے تحت واپس لایا جا رہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید آڈیو لیکس منظرعام پر آئیں گی جن میں سے ایک ان کے متعلق بھی ہے۔
پیر کو لاہور کی گورنمنٹ یونیورسٹی میں خطاب سے عمران خان نے کہا کہ ایک آڈیو لیک ان سے متعلق بھی آئے گی جس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اپنے والد نواز شریف کو بتا رہی ہیں کہ توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن عمران خان کو نااہل کر دے گا۔
’مریم اپنے ابا جی کو بتا رہی ہے کہ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نااہل کر دیں گے، آپ فکر نہ کریں۔‘
مزید پڑھیں
عمران خان نے یونیورسٹی طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقیقی آزادی کی تحریک میں شامل ہوں کیونکہ یہ ان کے مستقبل کا سوال ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’چوروں‘ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا ہوا ہے جو وہ جاری رکھیں گے۔
انہوں نے مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار کی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کان مین کو واپس بلوا لیا ہے۔ وہ تحریک انصاف کے دور میں نہیں بلکہ ن لیگ کی حکومت کے دوران بھاگا تھا جب نیب کی جانب سے تفتیش کے دوران جواب نہیں دے سکا تھا۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کو ڈیل کے تحت واپس لایا جا رہا ہے۔
عمران خان نے لیک ہونے والی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز اپنے دامار کے لیے انڈیا سے پاور پلانٹ منگوا رہی ہیں جبکہ شہباز شریف انہیں منع کرنے کے بجائے مشورہ دے رہے ہیں کہ کسی اور ملک کے راستے منگوا لیں۔
عمران خان نے الزام عائد کیا کہ مریم نواز کے داماد کی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گرڈ سٹیشن لگنا ہے جس پر ستر کروڑ کی لاگت آئے گی، جو دراصل قوم کے ٹیکس کے پیسے سے لگوایا جا رہا ہے۔

مریم اورنگزیب کے مطابق آڈیو ٹیپ ثبوت ہے کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوا۔ فوٹو: اے ایف پی
خیال رہے کہ سنیچر کو سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کال وائرل ہوئی تھی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ وزیراعظم شہباز شریف کی آواز ہے جس میں وہ کسی شخص کے ساتھ مبینہ طور پر مریم نواز کے داماد راحیل کے لیے انڈیا سے ایک پاور پلانٹ منگوانے کی بات کر رہے ہیں۔
اس مبینہ آڈیو لیک میں ایک پرائیویٹ نیوز چینل کے عہدیدار کا ذکر بھی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک سے زائد آڈیوز وائرل ہوئی ہیں جن میں مبینہ طور پر مریم نواز اور وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ مسلم لیگ نواز کی اعلیٰ قیادت کی نجی گفتگو لیک ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اتوار کو وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آڈیو لیکس کے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور اس کی تحقیقات شروع ہوچکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’انکوائری میں تمام ایجنسیوں کے اعلٰی سطح کے نمائندے ہونے چاہییں اور اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔‘
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ وزیراعظم ہاؤس میں کوئی بگنگ ڈیوائس تھی تو یہ سنجیدہ معاملہ ہے اور اس پر کارروائی ہوگی۔
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے لیک ہونے والی آڈیو میں گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے اتوار کو کہا تھا کہ ’انڈیا سے بجلی کا پلانٹ عمران خان کی حکومت کی پالیسی اور قانون کے مطابق آیا۔‘
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’آڈیو ٹیپ ثبوت ہے کہ کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوا اور نہ ہی کسی کو کوئی ناجائز فائدہ پہنچایا گیا ہے۔‘