آئی ایم ایف کی سخت شرائط سے معیشت نہیں چل سکتی: وزیرِ خزانہ

وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے انتہائی سخت شرائط پر قرض ملا ہے اور اگر آئی ایم ایف کی شرائط پر چلتے رہے تو معیشت نہیں چل سکتی۔
بطور وزیر خزانہ بدھ کو اسلام آباد میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف سے دوبارہ مذاکرات کر کے شرائط کو آسان بنانے کی کوشش کی جائے گی۔‘
مزید پڑھیں
پاکستان میں انکم ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے ایف بی آر کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ٹیکس نیٹ میں ہراسگی کا عنصر موجود ہے جو ٹیکس گزاروں کو دوسرے راستوں کی طرف مجبور کرتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ حکومت کوشش کرے گی کہ موجودہ ٹیکس گزاروں کو ہراساں نہ کیا جائے اور نئے ٹیکس دہندگان میں اضافہ کیا جائے۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو انکے سابق دور سنہ 2008 میں آئی ایم ایف نے آسان شرائط پر قرض دیا تھا کیونکہ اس وقت دنیا دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے ہمارے ساتھ تھی۔ تاہم اب پیشگی شرائط پر قرض دیا گیا ہے کیونکہ علاقائی صورتحال پاکستان کے حق میں نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی طرف سے سیاسی نوعیت کی شرائط عائد کر دی گئیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ چین نے سی پیک میں بہت بڑی سرمایہ کاری کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو ابتدا سے ہی کرنٹ اکاونٹ خسارے سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا رہا۔ اس بڑے اقتصادی چیلنج سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے کوشش کر کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کم کیا تو کورونا کا سامنا کرنا پڑا۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم نے دور رس پالیسیوں اور اقدامات کے لیے قومی اقتصادی کونسل کے تحت 12 گروپ بنائے ہیں۔
مہنگائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت ہے کہ مہنگائی کم ہونی چاہیے۔ مہنگائی پر قابو پا کر قیمتوں میں کمی پر توجہ دینی ہے۔ تمام اشیاء کی قیمتیں غیر حقیقی طور پر بڑھا دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ترقی کی شرح سات اعشاریہ پانچ فیصد ہوتی تو سب کے حالات بہتر ہوتے۔ ہمیں ترقی کی شرح بڑھانے کے لیے بہت اقدامات کرنے ہوں گے۔

شوکت ترین کا کہنا ہے کہ زراعت کے شعبے کی ترقی کے لیے پیسے خرچ کرنا پڑیں گے (فوٹو: اے ایف پی)
شوکت ترین نے ملکی زراعت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’زراعت کے شعبے کی ترقی کے لیے پیسے خرچ کرنا پڑیں گے۔ سب سے زیادہ روزگار کے مواقع زراعت میں ہی ہیں اور صنعت کا بھی زراعت سے براہ راست تعلق ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کئی وجوہات کی بناء پر برآمدات میں اضافہ نہیں ہو پا رہا۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لائے بغیر برآمدات میں بڑا اضافہ نہیں ہوگا۔‘
وزیر خزانہ نے سی پیک کے حوالے سے کہا کہ ’سی پیک کے تحت روزگار اور صنعت کے فروغ کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ چین نے سی پیک میں بہت بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ چین کو اقتصادی زونز میں صنعتیں لگانے پر زور دے رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ہمارے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ آئی ٹی کی برآمدات کو دو سال میں آٹھ ارب ڈالر تک لانے کی صلاحیت موجود ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہاؤسنگ اور تعمیرات میں نمایاں مواقع موجود ہیں۔ تعمیراتی شعبے میں قرضوں پر سود کی شرح بہت زیادہ ہونا بھی نقصان دہ ہے۔