آبدوز تنازع، امریکہ اور فرانس کے درمیان ’سرد جنگ‘ کے اثرات کیا ہوں گے؟

آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے مابین نئے سہ فریقی سکیورٹی معاہدے پر فرانس کا ردعمل ٹرمپ کی صدارت کے دوران ایک امریکی اخبار کی طرف سے شائع ہونے والے ایک طاقتور کارٹون کو ذہن میں لاتا ہے، جب امریکی صدر کانگریس سے بچنے کے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے حکمرانی کر رہے تھے۔
عرب نیوز کے مطابق بفیلو نیوز میں شائع ہونے والے کارٹون میں مجسمہ آزادی، جو فرانس کے عوام کی جانب سے امریکہ کو دیا گیا تحفہ ہے، کو دکھایا گیا، جس کی پیٹھ میں خنجر نہیں بلکہ صدر کا قلم گھونپا گیا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ یان ویس لی ڈرین نے جمعے کو نئے انڈو پیسفک سکیورٹی اتحاد، جسے آکوس کا نام دیا گیا ہے، کو ‘پیٹھ میں چھرا’ اور اس طرح کی دھوکہ دہی سے تشبیہ دی جو عموماً ‘اتحادی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں کرتے۔’
مزید پڑھیں
فرانسیسی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ‘آسٹریلیا اور امریکہ کی طرف سے 15 ستمبر کو کیے گئے اعلانات کی غیر معمولی سنجیدگی کی وجہ سے، پیرس فوری طور پر امریکہ اور آسٹریلیا سے اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا رہا ہے۔
معاہدے پر فرانس کا رنج اس کے سٹریٹجک اور مالی مضمرات دونوں سے متعلق ہے۔
پیرس کو نہ صرف انڈو پیسیفک سٹریٹجی سے باہر کیا گیا بلکہ وہ جوہری آبدوزوں کی تیاری کے لیے آسٹریلیا کے ساتھ بہت زیادہ منافع بخش معاہدے سے بھی محروم ہو گیا۔
آسٹریلیا نے فرانس کے بجائے امریکی ٹیکنالوجی کا انتخاب کیا ہے۔

امریکہ کی ’ایک اور سٹریٹجک غلطی؟‘

امریکی صدر جو بائیڈن، برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور آسٹریلوی وزیراعظم سکاٹ موریسن کی ورچوئل میٹنگ کے دوران اعلان کردہ نئے اتحاد نے فرانس کو مزید اشتعال دلایا۔

دنیا میں اس وقت چھ ممالک کے پاس ایٹمی آبدوزیں ہیں۔ (گراف: اے ایف پی)
اگرچہ واشنگٹن میں بہت سے مبصرین نے اس معاہدے کو چین کے لیے ایک واضح چیلنج کے طور پر سراہا، لیکن دوسروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ کا آغاز ہے یا امریکہ کی افغانستان سے انخلا کی ناکامی کے بعد ایک اور سٹریٹجک غلطی ہے۔
عہدہ سنبھالنے کے بعد سے جو بائیڈن نے اپنے پرانے یورپی اتحادیوں کے ساتھ امریکہ کے سرد تعلقات کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کی ہے، لیکن آکوس کے اس اقدام کا الٹا اثر پڑا ہے، جس سے فرانس اور وسیع تر پیمانے پر یورپی یونین اس سے الگ کر دے گا۔
اس نے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کس طرح سنبھالنا ہے، اس کے بارے میں ممکنہ اختلاف کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
بیجنگ کے ساتھ مقابلہ کرنے یا تعاون کرنے کے بارے میں مختلف پوزیشنز، جیسا کہ نیو یارک ٹائمز نے حال ہی میں کہا ہے کہ ‘عالمی سٹریٹجک نقشے کو دوبارہ بنائیں۔’

’امریکہ فرانس تعلقات میں دیرپا رکاوٹ‘

اٹلانٹک کونسل میں یورپ سینٹر کے ڈائریکٹر بینجمن حداد نے لکھا ہے کہ ‘آکوس معاہدے کا اس سے زیادہ نازک وقت نہیں ہو سکتا تھا، یہ انڈو پیسفک میں یورپی حکمت عملی کی اشاعت کے موقع پر کیا گیا اور اس میں پیرس خطے میں یورپی یونین کے اہم سٹریٹجک کردار کے طور پر ابھرا ہے۔’
انہوں نے پیش گوئی کی کہ یہ پیش رفت ‘خطے میں ٹرانس اٹلانٹک حکمت عملی کو دھچکہ دے گی اور امریکہ فرانس تعلقات میں دیرپا رکاوٹ پیدا کرے گی۔’

بیجنگ کواڈ اور نئے آکوس کو ‘سرد جنگ کے نظریے پر مبنی گروہ’ کے طور پر دیکھتا ہے۔ (فوٹو: شٹر سٹاک)
اگلے ہفتے وائٹ ہاوس چار رکنی اتحاد کے رہنماوں کے سکیورٹی ڈائیلاگ کی میزبانی کرے گا، جو امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور انڈیا کا سٹریٹجک اتحاد ہے اور ‘دی کواڈ’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ جو بائیڈن کی چین پالیسی کا ایک اور اہم ستون ہے۔
بیجنگ کواڈ اور نئے آکوس کو ‘سرد جنگ کے نظریے پر مبنی گروہ‘ کے طور پر دیکھتا ہے۔
اس دوران چین کے علاقائی حریف انڈیا نے توقع کے مطابق نئے اتحاد کا خیرمقدم کیا ہے۔
اگرچہ بائیڈن، جانسن اور سکاٹ نے اپنے آکوس کے اعلان میں چین کا ذکر نہیں کیا، لیکن امریکہ میں اس معاہدے کو صدر کی امریکی قومی سلامتی پر ‘دوبارہ سے توجہ دینے’ کی پالیسی اور اور چین کے خطرے کی طرف اپنی عسکری پوزیشن کو تبدیل کرنے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ 

’معاہدے کی قیمت فرانس امریکہ تعلقات‘

بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے جلد بازی میں انخلا کے فیصلے کو درست ثابت کرنے کے لیے وسائل کو چین سے خطرے کے دفاع کی جانب موڑنے کی ضرورت دکھائی۔ ناقدین بائیڈن کی ٹیم کو شک کا فائدہ دیتے اگر انڈو پیسیفک سٹریٹیجک آرکٹیکچر فرانس امریکہ تعلقات کی قیمت پر نہ ہوتا۔
فرانس کے پاس ناراض ہونے کی وجوہات ہیں۔ آسٹریلیا کے ساتھ امریکہ کی نئی ڈیل جس کو امریکی میڈیا نے ’تاریخی‘ قرار دیا ہے اور جس کے تحت مغربی اتحادی چین کی طاقت کا توڑ کرنا چاہتے ہیں، اس سے فرانس کے اربوں ڈالر کے آبدوزوں کے معاہدے کا خاتمہ ہوا ہے۔
امریکی میڈیا نے آکوس معاہدے پر فرانس کے ردعمل کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور یہ نہیں بتایا کہ اس سے امریکہ کے اتحادیوں کو کیا پیغام دیا گیا ہے۔ اس کے بجائے تمام تر توجہ اس بات پر دی گئی کہ یہ تاریخی ہے کہ اس کے ذریعے امریکہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی آسٹریلیا کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔