آرمینیا کے وزیراعظم نے مسلح افواج کے سربراہ کوبرطرف کردیا

آرمینیا کے وزیراعظم نکول پشنیان نے فوج کی جانب سے استعفے کے مطالبے کے بعد مسلح افواج کے سربراہ کو برطرف کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج میری حکومت کا تختہ الٹنا چاہتی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعرات کو فیس بک پر نشر ہونیوالے قوم سے خطاب میں آرمینیائی وزیراعظم نکول پشنیان نے مسلح افواج کے سربراہ کو برطرف کرتے ہوئے خبردار کیا کہ فوج ملک میں ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگانا چاہتی ہے۔

نکول پشنیان کو آذربائیجان کے ہاتھوں نگورنو کاراباخ میں شکست اور متنازع علاقوں کو باکو کے حوالے کرنے پر شدید تنقید کا سامنا تھا، اس معاملے پر عوام کی جانب سے حکومت کیخلاف احتجاج بھی کیا گیا۔

آرمینیا کی فوج نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا جسے نکول پشنیان نے مسترد کردیا تھا۔

مزید جانیے: آرمینیائی فوج نے وزیراعظم سے استعفیٰ مانگ لیا

فیس بک خطاب میں انہوں نے اپنے حامیوں سے دارالحکومت میں ریلی نکانے کی اپیل کی ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کو بتادیں کہ عوام اب بھی میری پشت پر کھڑے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق آرمینیائی وزیراعظم نے مسلح افواج کے سربراہ کو برطرف کردیا ہے۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان متنازع خطے نگورنو کاراباخ پر گزشتہ برس ستمبر سے شروع ہونیوالی جنگ میں عام شہریوں سمیت 5 ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

نومبر میں ماسکو کی ثالثی میں ہونیوالے امن معاہدے کے تحت آرمینیا کی جانب سے یہ خطہ باکو کے حوالے کرنے کے بعد اس جنگ کا خاتمہ ہوا تھا، معاہدے سے آرمینیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور اپوزیشن نے وزیراعظم نیول پشنیان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں