’آزادی اظہاررائے، کچھ بھی بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘

فوٹو: آن لائن

سپريم کورٹ نے واضح کرديا کہ آزادیٔ اظہار رائے کی آڑ میں جو منہ میں آئے بول دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے ريمارکس دیئے کہ عوامی فورم پر عدلیہ کیخلاف تقریر کرنیوالے آج اسی عدلیہ میں واپسی کی کوشش کررہے ہیں، صدیقی صاحب کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ حساس ادارے کے عہدیدار 3 مرتبہ ان کے گھر کیوں آئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کیخلاف اپیل پر سپريم کورٹ ميں سماعت ہوئی، عدالت عظمیٰ نے سابق جج کو عدلیہ مخالف تقریر پر سرزنش کردی۔

جسٹس عمر عطاء بندیال بولے کھل کر بولنے کے حق کی آڑ میں کسی کو جو منہ میں آئے کہہ دينے کی اجازت نہيں دی جا سکتی، ججز گوشہ نشین رہتے ہوئے اپنے فیصلوں کے ذریعے بولتے ہیں۔

جسٹس عمر عطاء بنديال نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے حقوق کا سپریم کورٹ نے تحفظ کیا جبکہ انہوں نے 2 ماہ بعد ہی عدلیہ کیخلاف انتہائی منفی تقریر کردی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر عدلیہ اتنی ہی بری ہے تو شوکت عزیز صدیقی آج اس میں واپسی کیلئے کيوں کوشاں ہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ اپنے جواب میں سابق جج نے لکھا کہ حساس ادارے کے افسر ان کے گھر آتے رہے۔ شوکت صديقی کے وکیل حامد خان نے کہا کوئی گھر آئے تو دروازہ کھولنا ہی پڑتا ہے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا جواب دینا ہوگا کہ حساس ادارے کے عہدیدار 3 مرتبہ شوکت عزیز صدیقی کے گھر کیوں آئے، آرٹیکل 211 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کہیں چیلنج نہیں ہوسکتی، پہلے اپیل کے قابل سماعت ہونے پر مطمئن کرنا ہوگا۔

سپریم کورٹ نے کيس کی مزید سماعت غیر معیننہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔