’آزادی مارچ‘ سے پہلے کے پی حکومت کو سرکاری ملازمین کے احتجاج، دھرنوں کا سامنا

ترجمان ایل آر ایچ محمد عاصم نے اردو نیوز کو بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے اوپی ڈی سروس متاثر نہیں ہوئی۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

 پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ممکنہ ’حقیقی آزادی مارچ‘ سے پہلے خیبرپختونخوا حکومت کو سرکاری ملازمین کے احتجاج اور دھرنوں کا سامنا ہے۔
اساتذہ اور ڈاکٹروں کی ہڑتال کے ساتھ ساتھ صفائی کا عملہ بھی سڑکوں پر نکل آیا ہے۔
ڈاکٹروں کی جانب سے ہسپتالوں میں احتجاج کے علاوہ سڑکوں پر سرکاری ملازمین اور نرسیں بھی احتجاجی دھرنے دے رہی ہیں۔

ڈاکٹر کیوں احتجاج کررہے ہیں ؟

خیبرپختونخوا ینگ ڈاکٹرز نے جمعرات سے تمام او پی ڈی سروسز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں
ہڑتال کی وجہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر کرامت اللہ کی ملازمت سے برطرفی ہے۔ گزشتہ روز ڈاکٹر کرامت اللہ کو ہسپتال کے رولز کی خلاف ورزی پر انکوائری کمیٹی نے ملازمت سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ڈاکٹر کرامت کی برطرفی کے فیصلے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال شروع کر دیا ہے۔
ترجمان ینگ ڈاکٹرز محمد فیصل نے اردو نیوز کو بتایا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال انتظامیہ اپنی کرپشن چھپانے کے لیے ایسے ہتکھنڈے استعمال کر رہی ہے مگر ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں۔

Caption
ان کے مطابق ڈاکٹر کرامت نے ہسپتال میں غیرقانونی کاموں کی نشاندہی کی تھی جس کی وجہ سے ان کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ڈاکٹر فیصل کے مطابق صوبے کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے علاوہ تمام سروسز کا ڈاکٹروں نے بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ ’ڈاکٹر کرامت اللہ کی بحالی تک ہڑتال جاری رہے گی۔‘
دوسری طرف ہسپتال انتظامیہ کا موقف ہے کہ ڈاکٹر کرامت اللہ نے ٹی وی شو پر بیٹھ کر انتظامیہ پر الزامات لگائے جو کہ سروس رولز کی خلاف ورزی ہے۔
’ڈاکٹر کو انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر صفائی کا موقع دیا گیا تھا۔‘
ترجمان ایل آر ایچ محمد عاصم نے اردو نیوز کو بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے اوپی ڈی سروس متاثر نہیں ہوئی۔

اساتذہ سڑکوں پر کیوں ہیں؟

آل پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی کال پر جمعرات کو تمام پرائمری ٹیچرز نے کلاسز کا بائیکاٹ کیا۔

آل پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی کال پر جمعرات کو تمام پرائمری ٹیچرز نے کلاسز کا بائیکاٹ کیا۔ (فوٹو: اردو نیوز)
جمعرات کو اساتذہ ریلی کی شکل میں صوبائی اسمبلی کے سامنے پہنچے اور دھرنا دے دیا۔
پرائمری ٹیچرز کے صوبائی صدر عزیزاللہ کے مطابق اساتذہ سکیل اپگریڈ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ’مگر حکومت ہمارے مطالبات کو سننے میں سنجیدہ نہیں ہے۔‘
مڈل، ہائی سکول اور پرائمری لیول کی بھرتی کے لیے تعلیمی قابلیت ایک ہیں مگر پرائمری ٹیچر کا گریڈ کم ہے۔
صوبائی صدر نے بتایا کہ جب تک تحریری یقین دہانی نہیں ہوتی دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ 
اساتذہ کے دھرنے کی وجہ سے پشاور کے مرکزی روڈ پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اساتذہ اور ڈاکٹروں کی ہڑتال کے ساتھ ساتھ صفائی کا عملہ بھی سڑکوں پر نکل آیا ہے۔ (فوٹو: اردو نیوز)
صوبائی وزیر تعلیم شہرام ترکئی نے اساتذہ کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سکولوں کو بند کرنا زیادتی ہے۔ ’اگر مطالبات جائز ہیں تو ہمارے سامنے لائیں۔ سڑکوں پر آکر احتجاج کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہم نے پہلے بھی اساتذہ کے مطالبات مانے ہیں اب بھی مانیں گے۔‘

صفائی  کے عملے نے کام کیوں چھوڑا؟

 واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی) کے ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں۔
صفائی کے عملے نے  پشاور میں ڈبلیو ایس ایس پی کے باہر دھرنا  دے کر بیٹھ گئے ہیں۔
ترجمان ڈبلیو ایس ایس پی کے مطابق حکومت نے فنڈز جاری نہیں کیے ہیں اس لیے تنخواہوں میں تاخیر کا سامنا ہے۔
دوسری جانب گرینڈ ہیلتھ الائنس اور ینگ نرسز ایسوسی ایشن نے 11 اکتوبر سے ہڑتال اور احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ 
گرینڈ ہیلتھ الائنس کے انفارمیشن سیکریٹری ناصر علی شاہ کے مطابق ہسپتالوں کے پرائیویٹائزیشن کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔