آنیوالے دنوں میں مقبوضہ کشمیر کو آزاد دیکھیں گے، وزیراعظم

آزاد کشمیر میں انتخابات 25جولائی کو ہونگے

Your browser does not support the video tag.

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے کوئی شک نہیں ہم آنے والے دنوں میں مقبوضہ کشمیر کو آزاد دیکھیں گے۔

بھمبر میں جلسے سے خظاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 5 اگست کے بعد مجھے ڈر تھا کہیں کشمیری ہمت نہ ہار جائے لیکن مجھے فخر ہے کہ انہوں نے جس طرح سے مودی کے ظلم کے خلاف مزاحمت کی جوکہ قابل تحسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے کشمیر پر بہت ظلم کیا ہے لیکن ظلم بہت جلد ختم ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں آپ لوگوں کے مستقبل کا سوچتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ہمارا ملک عظیم قوم بنے تاکہ دنیا کے کسی بھی ملک پاکستان کا پاسپورٹ لے کر نکلیں تو دنیا کہے کہ یہ دیکھیں پاکستانی آرہا ہے، گرین پاسپورٹ کی عزت ہو۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھیک اور قرضہ مانگنے والی کی عزت نہیں کرتا اور نوجوان چاہے تو آزما کر دیکھ لیں۔ یہاں تک ماں، باپ اور بھائیوں سے بھی مانگ کر دیکھ لیں۔ جو ملک اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہو اسکی کوئی عزت نہیں کرتا۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لقب صادق اور امین تھا جن کی دشمن بھی عزت کرتا تھا۔ پاکستان کے صرف ایک لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کو مانتا ہوں جن کے مخالف بھی قائد اعظم کو سچا اور انصاف کرنے والا مانتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے نوجوانوں ہم نے ایک عظیم قوم بننا ہے۔ ہم نے اپنے آپ اور ملک کو بھی بدلنا ہے اور سچ بول کر بدلنا ہے، گاؤں دیہات میں بھی لوگ ایسے شخص کو ہی اچھا سمجھتے ہیں۔ 25جولائی کو جب آپ ووٹ ڈالنے جائیں گے تو آپ نے خود سے اور دیگر ووٹرز سے بھی پوچھنا ہے کہ آپ جس لیڈر کو ووٹ دے رہے ہیں وہ سچا اور ایماندار ہے یا نہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایسا شخص جو ملک سے جھوٹ بول کر، بولی ووڈ کی اداکاری کرکے اور بیمار بن کر بیرون ملک گیا ہو اور ایسی ادارکاری کی ہو کہ ہماری کابینہ کی خواتین بھی رونے لگ گئیں کہ پتہ نہیں یہ جہاز کی سیڑھیاں بھی چڑھ پائے گا یا نہیں لیکن لندن پہنچتے ہی یہاں سے جانے والا نواز شریف بالکل بدل گیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ڈنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ نہیں کرتا اور نہ ججز کو کالیں کرتا ہے بلکہ آج کی عدلیہ آزاد ہے۔ پوچھنا چاہتا ہوں اگر عدالتیں آزاد ہیں تو یہ باہر کیوں بھاگے ہوئے ہیں جبکہ انکا منشی اسحاق ڈار ہماری حکومت آنے سے پہلے ہی باہر بھاگ گیا۔

عمران خان نے واضح کیا کہ یہاں تو تحریک انصاف کے وزراء کو بھی نہیں چھوڑا جاتا یہاں تک کہ ہمارے دو وزراء کو بھی جیل میں ڈالا دیا۔ ہم عدالتیں اور نیب کو کنٹرول کرتے تو ہم اپنے وزراء کو تو جیل میں نہ جانے دیتے۔

انہوں نے کہا کہ ووٹ ڈالنے والوں سے یہ لازمی پوچھا جائے کہ آپ کا لیڈر سچا اور ایماندار ہے یا نہیں۔ اگر لیڈر ایماندار ہو تو وہ خود پیسے بنائے گا اور نہ کسی کو بنانے دے گا۔ جس ملک میں غربت ہوگی وہاں درحقیقت طاقت کی حکمرانی ہوگی، وہاں کرپٹ لیڈر، کرپٹ وزیراعظم اور کرپٹ وزیر ملیں گے۔

وزیراعظم نے کہ اکہ اس لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول تھا کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا اور دنیا کے سب سے عظیم لیڈر نبی پاک نے کہا تھا کہ میری بیٹی بھی اگر جرم کرے گی تو سزا ہوگی، کوئی قانون سے اوپر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کمزور جیلوں میں جائے اور طاقتور این آر او حاصل کرلے، پھر باہر جا کر بیٹھ جائے اور اپنے پوتے کا پولو میچ دیکھے۔ باہر رہنے والوں کو اندازہ ہے کہ لندن میں کس طرح کا انسان پولو کھیل سکتا ہے، وہاں گھوڑا رکھنا اور پولو کھیلنے کے لیے بہت پیسہ چاہیئے۔

عمران خان نے کہا کہ مولانا رومی سے کسی نے پوچھا ایک قوم کیسے مرتی ہے۔ مولانا رومی نے جواب دیا کہ قوم جب اچھے اور برے میں فرق کرنا چھوڑ دے تو وہ قوم اخلاق و معاشی طور پر مر جاتی ہے۔

انہوں نے کہ اکہ پاکستان کے پرانے نظام جو مافیاز بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ان سے ہم روز جنگ کر رہے ہیں۔ آپ کے کپتان کو ایک چیز جو کرنا آتی ہے وہ مقابلہ ہے اور آپ لوگوں کی حمایت سے مافیاز کو شکست دے کر دکھاؤں گا۔

جلسے کے آغاز پر وزیراعظم عمران خان نے شرکاء کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک پہننے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک بھارت کو دیکھیں جہاں کرونا سے لاکھوں اموات ہوئیں۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ لوگ کرونا کا شکار نہ ہو جائیں اور کہیں بھمبر جلسے کے بعد کرونا کیسز میں اضافہ نہ ہو جائے۔

متعلقہ خبریں