آڈیو لیکس: ’تحقیقات ایف آئی اے کے بجائے سپریم کورٹ کرے‘

کابینہ نے عمران خان کی مبینہ آڈیو لیکس پر کابینہ کمیٹی تشکیل دی تھی (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کی وفاقی حکومت نے آڈیو لیکس کے معاملے پر سابق وزیراعظم عمران  خان، ان کے اس وقت کے وزرا اور سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے خلاف قانونی کارروائی کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سائفر کی تحقیقات پر حکومتی آمادگی درست سمت میں قدم ہے تاہم تحقیقات ایف آئی اے کے بجائے سپریم کورٹ کا کمیشن کرے۔
اتوار کو وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کابینہ نے ’ڈپلومیٹک سائفر‘ سے متعلق آڈیو لیکس پر ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات اور قانونی کارروائی کی منظوری دی ہے۔
مزید پڑھیں
اس سلسلے میں کابینہ نے 30 ستمبر کو عمران خان کی سائفر سے متعلق مبینہ آڈیو لیکس پر کابینہ کمیٹی تشکیل دی تھی۔
کابینہ کمیٹی کا پہلا اجلاس گزشتہ روز یکم اکتوبر کو منعقد ہوا جس میں قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ ان سفارشات کو سمری کی شکل میں کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا گیا جس نے  سرکولیشن کے ذریعے ان (سفارشات) کی منظوری دی۔
کابینہ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ ’یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے جس کے قومی مفادات پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں، قانونی کارروائی لازم ہے۔ ایف آئی اے کے سینیئر حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں انٹیلی جنس اداروں سے بھی افسران اور اہلکاروں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔‘
کابینہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم جرم کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔
وفاقی کابینہ کے فیصلے پر مشتمل سمری وزارت داخلہ کو بھجوا کر ہدایت کی گئی ہے کہ اس پر عمل در آمد رپورٹ  فوری طور کابینہ میں پیش کی جائے۔

’تحقیقات ایف آئی اے کے بجائے سپریم کورٹ کا کمیشن کرے‘

تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سائفر کی تحقیقات پر حکومتی آمادگی درست سمت میں قدم ہے تاہم تحقیقات ایف آئی اے کے بجائے سپریم کورٹ کا کمیشن کرے۔
انہوں نے ٹویٹ کیا کہ عمران خان کی حکومت ایک سازش کے تحت ہٹائی گئی۔

 ’سائفر ایک حقیقت اور مداخلت ہے‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سائفر دفتر خارجہ کے ریکارڈ میں ہوگا اور اگر حکومت چاہے تو پبلک کر دے۔
سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے پاس جب سائفر آیا تو میں نے اس کو پڑھ کر سنجیدہ سمجھا اور تشویش کا اظہار کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ سائفر ایک حقیقت ہے اور حکومت نے اسے تسلیم کر لیا ہے۔
’اگر حکومت تحقیقات کرنا چاہتی ہے تو شوق سے کرے، ہمیں کوئی گھبراہٹ نہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی متفقہ رائے تھی کہ اس کو ڈیمارش کیا جائے۔
خیال رہے کہ ڈپلومیٹک سائفر سے متعلق عمران خان کی پہلی مبینہ آڈیو 28 ستمبر کو جبکہ دوسری آڈیو 30 ستمبر کو منظر عام پر آئی تھی۔
عمران خان اور اُس وقت کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے درمیان گفتگو کی مبینہ آڈیو میں دونوں کو امریکی سائفر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔