آڈیو لیکس: حکومت کی کمیٹی کن امور پر اپنی رپورٹ تیار کرے گی؟

کمیٹی وزیراعظم ہاؤس میں سائبر سکیورٹی کی خلاف ورزی کی تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی (فائل فوٹو: اے پی پی)

آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں اعلٰی اختیاراتی کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ کو طلب کر لیا گیا ہے۔
وزرات داخلہ کے ذرائع کے مطابق بدھ کو ہونے والا اجلاس چند ممبران کی ملک میں عدم موجودگی کی وجہ سے ملتوی بھی ہو سکتا ہے تاہم کمیٹی کے ممبران اور اس کے ٹرمز آف ریفرنسز پر مشتمل نوٹی فیکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
کمیٹی میں رانا ثنا اللہ کے علاوہ چار دیگر وزرا، ڈی جی آئی ایس آئی یا نمائندہ اور ڈی جی آئی بی کے علاوہ تکنیکی معاونین بھی شامل ہیں۔
اردو نیوز کے پاس دستیاب نوٹی فیکیشن کے مطابق کمیٹی میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان، وزیر مواصلات اسعد محمود اور وزیر آئی ٹی امین الحق شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پی ٹی اے، آئی ایس آئی، ایف آئی اے اور این ٹی آئی ایس بی کے تکنیکی ماہرین بھی کمیٹی میں شامل ہوں گے۔
کمیٹی کن امور پر رپورٹ بنائے گی؟
نوٹی فیکیشن کے مطابق کمیٹی وزیراعظم ہاؤس میں سائبر سکیورٹی کی خلاف ورزی کی تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
کمیٹی وزیراعظم ہاؤس میں سمارٹ فون، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپس اور دیگر آلات کے ساتھ منسلک خدشات کا جائزہ لے گی اور وزیراعظم ہاؤس سمیت مختلف حکومتی محکموں کی سائبر سکیورٹی بہتر کرنے کے حوالے سے تجاویز دے گی۔
یہ کمیٹی وزیراعظم ہاؤس کے موجودہ ای سیفٹی اور سائبر سکیورٹی کے نظام کا جائزہ لے گی اور آئندہ کے لیے فول پروف سکیورٹی اور ڈیجیٹل ایکوسسٹم کو یقینی بنائے گی۔

کمیٹی میں رانا ثنا اللہ کے علاوہ چار دیگر وزرا، آئی ایس آئی کا نمائندہ اور ڈی جی آئی بی بھی شامل ہیں (فائل فوٹو: وزارت داخلہ)
کمیٹی حساس ڈیٹا کی حفاظت شارٹ اور میڈیم ٹرم سفارشات تیار کرے گی اور اہم وزارتوں اور محکموں جیسے کہ نادرا، ایس ای سی پی، ایف بی آر اور سٹیٹ بینک کے علاوہ دیگر ریگولیٹری اداروں کی سائبر سیکورٹی یقینی بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔
کمیٹی کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ وہ اس مقصد کے لیے کسی دیگر ممبر یا ماہر کی رائے بھی حاصل کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں وزیراعظم ہاؤس کی آڈیوز منظرعام پر آنے کے بعد طلب کیے گئے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ معاملے کی چھان بین کے لیے اعلٰی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔